ذہنی امراض کا عالمی دن،عوام میں شعور ضروری ہے،ڈاکٹر میاں نظام علی

سوات (زما سوات ڈاٹ کام) ذہنی امراض کے معروف معالج ڈاکٹر میا ں نظام علی نے کہاہے کہ ذہنی امراض کے عالمی دن منانے کا مقصد بیماری کے حوالے عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے، 1992سے ہر سال دس اکتوبر کو دنیا بھرمیں ذہنی امراض کا عالمی دن منا یا جاتا ہے، ذہنی امراض میں مبتلاء فرد کا بروقت علاج نہایت ضروری ہے کیونکہ ذہنی کو فت میں مبتلا ء شخص سے نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ متاثر اور پریشان ہوتا ہے، صحت کارڈز میں ذہنی امراض کی بیماریاں بھی شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات پریس کلب میں جینکس فارما کے زیر اہتمام ورلڈ مینٹل ڈے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر جینکس فارما کے ایریا منیجر گوہر زمان بھی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ 40سیکنڈ میں ایک فرد ذہنی مرض سے متاثر ہوتا ہے، 15سے30سال کے نواجوان تعلیمی مسائل اور دیگر مسائل کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلاء ہوتے ہیں اسلئے والدین کو اپنے بچوں کے لئے وقت نکالنا وقت کی اشد ضرورت ہے، عالمی وباء کورونا کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد ڈپریشن میں مبتلاء ہوگیا ہے، اگر ذہنی مرض میں مبتلاء مریض کا بروقت علاج ہوجائے تو بہت جلد صحت یاب ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ذہنی مرض میں مبتلاء شخص مرض کو تسلیم نہیں کرتا اور صرف آرام کے لئے خراب اوور گولیاں (غیر ضروری گولیاں) استعمال کرتا ہے اسی وجہ سے ان کا مرض پیچیدہ ہوجاتا ہے، انہوں نے کہا کہ جس طرح لوگ شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے لئے مستقل طور پر گولیاں کھاتے ہیں اسی طرح ذہنی امراض میں بھی ادویات استعمال کریں، انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض 100فیصد درست ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی یوم ذہنی امراض کا سلوگن ذہنی صحت سب کے لئے ہیں اس لئے ا س حوالے سے اساتذہ کرام، صحافی، علمائے کرام اور معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کنا چاہیئے اور اس کے لئے تحصیلوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر کام شروع کرنا چاہیئے، ذہنی امراض معاشی مشکلات، گھریلو مسائل اور دیر پریشانیوں سے پھیل رہے ہیں جس کا بروقت علاج بہت ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ چونکہ ذہنی امراض کے ادویات مہنگے ہیں اور مریضوں کو طویل مدت کے لئے استعمال کرنے ہوتے ہیں، اس لئے حکومت کی جانب سے عوام کو مفت علاج معالجے کے لئے جاری کردہ صحت کارڈز میں ذہنی امراض کا علاج بھی شامل کرنا چاہیئے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...