بابائے قطعہ ” روغانے بابا ” انتقال کرگئے

عبد الرحیم روغانے کی پہلی کتاب 1992 میں شائع ہوئی تھی جس کا نام تھا نوی نغمہ

سوات(زما سوات ڈاٹ کام)پشتو کے معروف شاعر بابائے قطعہ عبدالرحیم روغانے طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ وہ جگر کے کینسر میں مبتلا تھے اور سیدو شریف اسپتال میں زیر علاج تھے۔عدالرحیم روغانے جنہیں 30 سال قبل بابائے قطعہ کا خطاب بھی دیا گیا تھا اور نظم و نثر کے چھ کتابوں کے خالق بھی تھے۔ پشتو شاعری میں ایک اعلیٰ مقام کے حامل شخصیت تھے۔

عبدالرحیم روغانے 15جنوری1950 میں سوات کی تحصیل مٹہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی اور پھر جہانزیب کالج سے پشومیں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ عبدالرحیم روغانے نے اپنی شاعری کا آغاز ساتویں جماعت سے کیا تھا اور پھر پشتو شاعری میں اپنا ایک الگ مقام حاصل کرلیا۔ عبد الرحیم روغانے کی پہلی کتاب 1992 میں شائع ہوئی تھی جس کا نام تھا نوی نغمہ، اس کے ساتھ ساتھ وہ طنز و مزاح کی معنی خیز شاعری میں بھی الگ ہی مقام رکھتے تھے اور قطعوں کے خالق بھی کہلائے گئے۔
اکہتر سالہ عبدالرحیم روغانے گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے، اُن کی وفات کی خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر شخص اں کی رحلت پر افسردہ دکھائی دے رہا ہے۔

( خبر جاری ہے )

Comments
Loading...