شادی رکھوانے کے لئے تین سالہ بچے کا گلہ کاٹا گیا، انویسٹی گیشن رپورٹ

مدرسہ عائشہ انور کی معلمہ نے تین سالہ بچے حسان کا گلہ اس وجہ سے کاٹا تاکہ اُس کی بہن کی شادی روک سکیں اور اپنے بھائی سے اُس کی شادی کرا سکیں

سوات(زما سوات ڈاٹ کام)مینگورہ کے علاقے امانکوٹ میں 24 فروری کو تین سالہ محمد حسان ولد امجد علی کا گلہ کاٹا گیا تھا جس کی رپورٹ رحیم آباد پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ پولیس نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے تفتیش کا آغاز کردیا اور ایک ہفتے کے اندر اندر ملزمہ حفصہ دختر صفدر علی کو گرفتار کرلیا۔
واقعے کے حوالے سے انویسٹی گیشن رپورٹ میں بتایا کہ امانکوٹ میں ایک مدرسہ ہے جس میں خواتین دینی تعلیم حاصل کرتی ہے۔ مدرسہ عائشہ انور کی معلمہ مسماۃ (ح) دختر صفدر علی نے تین سالہ بچے حسان کا گلہ اس وجہ سے کاٹا تاکہ اُس کی بہن مسماۃ (م) کی شادی روک سکیں اور اپنے بھائی سے اُس کی شادی کرا سکیں۔تین سالہ بچے حسان کی بہن بھی اسی مدرسے میں بچوں کو پڑھاتی ہیں۔
انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق 24 فروری کو یہ بچہ اپنی بہن کے ساتھ مدرسہ آیا ہوا تھا ، تین بجے کے قریب ملزمہ (ح) نے اُس کی بہن کو دوسرے کمرے بچوں کو حدیث پڑھانے کی غرض سے بھجوایا اور خود واش روم جانے کا کہ گئی۔ جب تین سالہ بچے کی بہن دوسرے کمرے میں گئی تو ملزمہ نے بچے کو مدرسے سے باہر لے جا کر بلیڈ کے ذریعے اُس کا گلہ کاٹ دیا اور واپس مدرسے آکر واش روم میں چلی گئی۔
پولیس کے مطابق خاتون ملزمہ نے اس سے قبل بچے کی بہن (م) کے سسرال فون بھی کیا تھا کہ آپ یہ شادی رکھوادیں۔خاتون ملزمہ نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،اور عدالت میں بھی خاتون پر جرم ثابت ہوگیا ہے۔ دفعہ 324کے تحت خاتون کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...