کاروباری افراد کی تربیت سے فوڈ سیفٹی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن

ان خیالات کا اظہارکمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے فوڈ سیفٹی دن کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیشن

سوات(زما سوات ڈاٹ کام )کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ فوڈ سیفٹی کے حوالے سے خوراک سے وابستہ مقامی کاروباری افراد کا کردار نہایت اہم ہے، عوام کی بہتر صحت کا اشیاء خوردونوش کی تیاری اور خرید و فروخت سے براہ راست تعلق ہے، دنیا جیسے جیسے مختلف شعبوں میں مزید مہارت کی طرف بڑھ رہی ہے ویسے ہی اداروں کی تشکیل نو اور استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، پانچ سالوں میں خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے جس منظم طریقے سے کارکردگی دکھائی ہے اس سے فوڈ سیفٹی معاملات میں بہتری آئی ہے، فوڈ سیفٹی کے حوالے سے فوڈ اتھارٹی کے ساتھ کاروباری افراد کا تعاون مثالی ہے اور اس شراکت داری کو ایسے ہی جاری رہنا چاہیے، فوڈ سیفٹی کے حوالے سے مزید آگاہی کی ضرورت ہے اور فوڈ سے وابستہ کاروبار کو مانیٹر کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہارکمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے فوڈ سیفٹی دن کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

فوڈ اتھارٹی سوات کی جانب سے سوات میں کاروباری افراد اور میڈیا کے لئے فوڈ سیفٹی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی ایک اجتماعی ذمہ داری کا نام ہے اور یہ ذمہ داری عوام اور خوراک سے وابستہ کاروباری افراد پر یکساں عائد ہوتی ہے،فوڈ سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2014 میں قانون سازی کی گئی اور 2016 میں فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور آج فوڈ اتھارٹی اپنے دائرہ کار اور استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ایک مضبوط ادارہ بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خوراک سے وابستہ کاروباری افراد کی تربیت سے فوڈ سیفٹی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔آگاہی سیشن سے خطاب میں ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈاکٹر عدالت خان کا کہنا تھا کہ زرعی اجناس اور پھلوں کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی ادویات سے متعلق بھی آگاہی کی ضرورت ہے، کسانوں اور عوام میں آگاہی اجاگر کر کے ان ادویات کے مضر اثرات سے خود کو بچایا جا سکتا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی سوات اسد قاسم نے آگاہی سیشن کے شرکاء کو فوڈ سیفٹی اور اتھارٹی کے کردار کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن میں خوراک سے وابستہ آٹھ ہزار سے زائد کاروباروں کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے جس سے خوراک سے وابستہ کاروباروں کی نگرانی آسان ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح آگاہی کیلئے تین ہزار سے زائد سیشن منعقد کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ اسد قاسم کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر 10 میں سے ایک شخص غیر معیاری خوراک کی وجہ سے بیمار ہو رہا ہے ہے اور یہ شرح بچوں میں سب سے زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر معیاری خوراک کا بڑا اثر بچوں، حاملہ خواتین اور بزرگ شہریوں کی صحت پر پڑ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے خصوصی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ خوراک سے متعلق آگاہی پیدا کرکے لوگوں کو بیمار ہونے سے بچایا جاسکے۔ سیشن کے اختتام پر خوراک سے وابستہ کاروباری افراد میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...