بحرین کے علاقہ مانکیال میں تحصیل انتظامیہ کے خلاف گرینڈ جرگہ

دریا پر انتظامیہ قبضہ، جنگل پر محکمہ فارسٹ قبضہ اور سڑکوں پر این ایچ اے کا قبضہ، لیکن اس پر بھی منظور نظر لوگوں کو کھلی چھوٹ، جبکہ غریب کو جرمانے اور جیل کی سزا ہوتی ہے

کالام (ایچ ایم کالامی- زما سوات ڈاٹ کام) مانکیال میں تحصیل بحرین انتظامیہ کے خلاف گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں بحرین، لائیکوٹ، کیدام، مانکیال، بالاکوٹ اور کالام کے مشران شامل تھے۔ جرگہ میں سوات کوہستان کے مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جرگے سے سابق ڈسٹرک ناظم بالاکوٹ ضیاء الحق نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اریانئی میں ایک یتیم اپنا گھر تعمیر کر رہا تھا کہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بحرین سلطان حیدر شاہ بغیر لیڈی کانسٹیبل کے ایف سی اہلکاروں سمیت ان کے گھر میں گھس گیا، ویڈیوز بنائی اور چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کیا۔  گھر میں ذمہ دار بندہ نہیں تھا، عورتوں اور بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں نے مشران کا جرگہ بھیجا۔ وہاں پر مشران نے اے اے سی کو بتایا کہ لوکل کوٹہ کے لکڑیوں اور مسمار شدہ گھر کے لکڑ کو کیوں پکڑنا ذیادتی ہے۔ ہمارے سوات کوہستان کے غریب عوام اپنے لئے گھر نہیں بناسکتے۔ دروازہ اور چوکاٹ کے محتجاج ہوتے ہیں۔ اے اے سی نے لوکل کوٹہ کے تمام لکڑیوں کو غائب کردیا، جس کا ابھی تک پتا نہیں چلا۔ ہم نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بحرین سلطان حیدر شاہ کو رخصت کرتے ہوئے صرف یہ بتایا کہ آپ نے ہمارے خواتین اور بچوں کی بے عزتی کی ہے، لیکن آپ کی عزت افزائی کے لئے آپ کو کوہستانی روایات کے تحت معاف کرتے ہیں۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر بحرین ہدایت اللہ نے فون کرکے بتایا کہ آپ آفس آجائیں بات کرتے ہیں۔

ہم نے ان کو بتایا کہ ہم اے سی کے خلاف رٹ کرتے ہیں۔ اے سی ہدایت اللہ نے اعتراف کرلیا کہ ہمارے ایڈیشنل اے سی نے غلطی کی ہے۔ آپ رٹ نہ کرے۔ معامہ رفع دفع ہوگیا اور ہم چلے گئے۔ بعد میں پتا چلا کے ہمارے نو افراد کے خلاف مختلف دفعات درج کرکے ہمیں ذہنی ٹارچر اور ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ دریا پر انتظامیہ قبضہ، جنگل پر محکمہ فارسٹ قبضہ اور سڑکوں پر این ایچ اے کا قبضہ، لیکن اس پر بھی منظور نظر لوگوں کو کھلی چھوٹ، جبکہ غریب کو جرمانے اور جیل کی سزا ہوتی ہے۔ اب مرضی عوام کی ہوگی، کچھ دن ہم جیل جائیں گے۔ میں جیل کھانے کے لئے تیار ہوں ان نو غریب افراد کے ساتھ۔ میں نے آپ معززین کو اس لئے بلایا ہے کہ ہمارے کوستانی قوم کے ساتھ انتظامیہ کی انتہائی بدنیتی اور ذاتیات پر مبنی ہے۔ جو بھی بیوروکریٹس حکومت بھیجے تو بندے کو علاقے کی روایات کو سمجھا کر بھیجے ورنہ ضرورت نہیں۔ اس دورران "گلی گلی میں شور ہے، اے سی لکڑی چور ہے” کےنعرے بھی بلند ہوئے۔ سابق ڈسٹرک ناظم مانکیال ڈاکٹر شاہ محمد خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جذبات کے بجائے حکمت عملی سے کام لیا جائے۔ ظلم ہم نے نہ پہلے مان لیا ہے اور نہ آگے مانیں گے۔ قانون کیا ہے اور بدمعاشی کیا ہے یہ ہمارے مشران جانتے ہیں۔ اس پر ایک کمیٹی بنائی جائے، پھر کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ ایف آئی آر اور جیل سے ڈرنے والے نہیں۔ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ہم قانونی اور جرگے کے طور پر کیا اقدامات اٹھائیں گے۔ ہمارے پرانے فرنیچروں پر ہمیں تنگ کیا جاتا ہے۔ تجاوزات کے لئے ہمیں حدودات کا تعین کیا جائے، بعد میں ہم مسمار کرنے کو تیار نہیں۔ نادرشاہ خان شاہ خان نے بھی خطاب میں کمیٹی کی تجاویز پر اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری اپنی ثقافت اور روایات ہیں۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ریاست و عوام لازم و ملزوم ہے۔ یہ صرف اریانئی اور بالاکوٹ کا مسلہ ہے یہ پوری تحصیل بحرین کا مسلہ ہے۔

ہم جیسے لوگ ایک عدد سلیپر نہیں لے جا سکتے، جبکہ ٹمبر مافیاز گاڑیوں کو بھر بھر کے لے جارہے ہیں۔ مردان کے بے گناہ طالب علموں کو ڈی پی او اور ڈی ایس پی نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اب آئی جی پی نے خود آکر اعتراف کرلیا اور جرگے کے ذریعے معافی مانگے کی پیش کش کی۔ اب اے سی کو بھی چاہئے کہ اپنی غلطی تسلیم کرکے قوم سے معافی مانگے۔ ایف آئی آر اور جیل سے ڈرنے والے نہیں۔ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے محمد میر خان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ہم ان کے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں اور ان کو سر پہ چڑھا رہے ہیں۔ اے سی نے اپنے ایف آئی آر میں تضادات کرکے خود اپنی بے عزتی کی۔ آپ مشران کو موقع دیا گیا کہ آپ ایسے نا اہل انتظامیہ سے محفوظ رہے۔ ملک عطاواللہ خان نے خطاب میں بتایا کہ ایک اے سی نہیں، پوری مشینری گندی ہے۔ انتظامیہ بھی پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ آپ ہمارے نوکر ہیں، ہمارے جیب سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ہمیں نہیں، آپ کو ہمارا آرڈر مان لینا چاہئے۔ ریاض خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ تحصیل بحرین میں کرپشن عام ہے۔ پولیس رشوت لے رہی ہے اور فارسٹ بھی رشوت لے رہے ہیں۔ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق سچ سچ بتاکر ان کو بے نقاب کریں گے۔ حاجی بہروز نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہم یہاں پر سیاسی طرح اکھٹے نہیں ہوئے، جلسہ نہیں جرگہ ہے۔ کمیٹی اے سے تفتیش کرے گی۔ اکیلے ضیاء الحق نہیں، یہ پورا جرگہ جیل جائے گا۔ سابق ناظم وی سی اریانئی ملک ریاض گجر نے بتایا کہ کہی پر قانون نہیں۔ غریب پر پرچے اور ٹمبر مافیاز کو کھلی چھوٹ دی جاررہی ہے۔ جیل نہیں غریب عوام کے لئے پھانسی پر بھی چڑھیں گے۔ اے سی اور محکمہ فارسٹ کے افسران کو تھوڑی سی رشوت دے تو قانون کچھ بھی نہیں۔ غریبوں کو اٹھ کر اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہئے۔ حاجی طاؤس خان نے کہا کہ رشوت کو کسی صورت نہیں مانیں گے۔ اور بغیر لیڈی کانسٹیبل کے گھروں میں گھسنے کا پوچھ لیں گے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں مسلسل ظلم ہورہا ہے۔ ہم اس ظلم کے خلاف لڑتے رہیں گے۔

حاجی بخت امین کریمی نے بتایا کہ ظلم سوات کوہستان کے کسی بھی علاقے میں ہو، پورے علاقے کے مشران ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ہم تو یہاں انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ٹمبر مافیاز، منشیات فروش اور جرائیم پیشہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ بدلے میں حکومت نے والی سوات کے بعد ہمیں ایک اسپتال، سکول اور کالج نہیں بنایا۔ آپ بار بار ظلم ڈھاتے رہو اور  ہم بار بار اکھٹے ہوں گے اور بار بار آواز اٹھائیں گے۔

( خبر جاری ہے )

Comments
Loading...