سوات، حکومتی رہائشی ٹاون شپ بنیادی سہولیات سے محروم،پراجیکٹ ڈاریکٹر کی کرسی خالی

تیس سا ل سے مختلف پوسٹوں پر تعینات اہلکار پراپرٹی کا کاروبار کرنے لگے ہیں

سوات ( زما سوات ڈاٹ کام)سوات کا حکومتی رہائشی کانجو ٹاؤن شپ کے چار ہزار گھرانے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جدید دور میں بھی ٹاؤن کے مکین سوئی گیس، صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں، باونڈری وال نہ ہونے کے باعث ٹاؤن غیر محفوظ اور جرائم کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے، تیس سا ل سے مختلف پوسٹوں پر تعینات اہلکار پراپرٹی کا کاروبار کرنے لگے ہیں۔

ٹاؤن فلاحی ایکشن کے صدر رحیم شاہ خان نے دیگر عہدیداروں سینئر نائب صدر اقبال علی خان، جنرل سیکرٹری برکت علی خان، چیئرمین ڈاکٹر احسان اللہ، حیدر علی خان کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ  تیس سال قبل قائم کانجو ٹاؤن شپ میں کوئی تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا سڑکیں کھنڈرات میں بدل چکی ہیں،تاحال باؤنڈری وال تعمیر نہیں کی جاسکی ہے جس کے باعث ٹاؤن میں آئے روز جرائم عام ہورہے ہیں اس جدید دور میں بھی ٹاؤن کے ہزاروں گھرانے سوئی گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  بجلی کا نظام درہم برہم ہے، سیورج کا نظام تباہ ہوچکا ہے، گرین بیلٹ میں غیر قانونی کٹا ئی کرکے چٹیل میدان میں بدل دیا گیا ہے، ” کانجو ٹاؤن شپ ایس ڈی ڈی اے کی لاپرواہی سے مسائلستان بن چکا ہے، ٹاؤن میں تیس سال سے اہلکار مختلف پوسٹوں پر براجمان ہیں اور فلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کررہے ہیں ٹاؤن میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا قانون ہے، ہاسٹلز اور مکانات میں غیر مقامی افراد کی رجسٹریشن نہیں ہورہی جس کے باعث جرائم اور غیر اخلاقی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں”

 انہوں نے کہا کہ صفائی کاانتظام ناقص اور باؤلے کتوں کی یلغار ہے،مساجد کی تعمیر سمیت دیگرعوامی جگہوں کی تعمیر میں غفلت اور لاپرواہی برتی جارہی ہے، درختوں کی شاخ تراشی کے بعد نیلامی نہیں ہوتی، ٹاؤن کی اراضی میں تجاوزات کی بھر مار ہے،مارکیٹس کی اراضی کو لیز پر دینے میں تاخیر کی جارہی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹاؤن میں مستقل پی ڈی کی تعینات اور برسوں سے براجمان افراد کا تبادلہ کیا جائے، بصورت دیگر وہ شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...