پولیس جوانوں نے قربانیاں دیں اور مادر وطن کی حفاظت کی، ریجنل پولیس آفیسر ذیشان اصغر

یوم شہداء پولیس چارآگست’ کی مناسبت سے ضلع سوات میں مختلف تقاریب اور ایونٹس کا انعقاد کیا گیا

سوات(زما سوات ڈاٹ کام) خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء، غازیوں اور خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے ‘یوم شہداء پولیس چارآگست’ کی مناسبت سے ضلع سوات میں مختلف تقاریب اور ایونٹس کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی تقریب پولیس لائنز کبل میں منعقد ہوئی۔ پولیس شہداء کے بچے اس موقع پر مہمانان خصوصی تھے۔ تقریب میں پولیس شہداء کے فیملی ممبران، پولیس کے ریٹائرڈ غازی آفیسرز اور اہلکاروں نے خصوصی شرکت کی۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی، ریجنل پولیس آفیسر ذیشان اصغر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد نواز مروت، ایس پی انویسٹیگیشن سوات شاہ حسن سمیت دیگر پولیس آفیسرز و اہلکاروں اور انتظامی افسران، مقامی مذہبی, سماجی اور سیاسی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی، ریجنل پولیس آفیسر ذیشان اصغر اور دیگر مقررین نے تقریب میں خطاب کیا اور پولیس شہداء کو خراج عقیدت اور خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب سے خطاب میں ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن ذیشان اصغر کا کہنا تھا کہ اس بات پر فخر ہے کہ پولیس جوانوں نے ملک کے ہر شہر میں قربانیاں دیں اور مادر وطن کی حفاظت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ ہزار سے زائد پولیس جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا اور تیس ہزار سے زائد غازی ٹھرے۔ ریجنل پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ پولیس کی قربانیوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کرے امن کی فضا ایسی ہو کہ داخلی دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے جان نہ دینی پڑے۔ آر پی او ذیشان اصغر کا کہنا تھا کہ پولیس کو ہمیشہ سے عوام کے تعاون کی ضرورت رہی ہے اور اس ضمن میں عوام پولیس سے اپنا تعاون جاری رکھیں اور پولیس عوام کے لئے اپنے آفس کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں۔ تقریب سے خطاب میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی نے سوات کے حوالے سے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالی اور تمام محرکات پر بات کی جس کی وجہ سے دہشتگردوں کو سوات میں اثرورسوخ قائم کرنے میں مدد ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ نے منظم انداز میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے اور اس پورے مرحلے میں پولیس اور دیگر فورسز اور عوام کو کڑے امتحان سے گزر کر قربانیاں دینی پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور ادارے متحد ہوں تو کوئی بھی دہشت گرد سر اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ تقریب میں شہداء خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔ مرکزی تقریب کے علاوہ سوات میں دیگر مقامات پر بھی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور یادگار شہداء پر بھی پھول رکھے گئے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...