سوات میں ” سوات قومی کانفرنس ” کا انعقاد

سوات میں ریاست اور حکومتوں کی بھر پور موجودگی کی باوجود قانون شکن جتھوں کا ظہور نہ صرف قابل افسوس ہے

سوات ( زما سوات ڈاٹ کام) سوات قومی جرگہ کے زیر اہتمام سوات پریس کلب سوات قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی پارٹیوں کے زعماء کرام، قومی مشران، پیشہ ور تنظیموں کے عہدیداروں، وکلاء برادری، علاقے کے دانشوروں اور معروف سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی جبکہ کانفرنس میں سوات قومی جرگہ کے مشران و بہی خواہ اور سوات ایکسپریس وے فیز II سے متاثرہ عوام کے تحریک کے سرکردہ رہنما بھی موجود تھے، قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی مشران مختیار خان یوسفزئی، عبدالجبار خان، شیر شاہ خان، خواجہ محمد خان، شیر بہادر خان، ڈاکٹر خالد فاروق، عرفان چٹان، ڈاکٹر امجد، نیاز احمد خان، ڈاکٹر خالد محمود، احمد شاہ خان، خورشید کاکا جی، فواد احمد خان، عمر علی شاہ ایڈووکیٹ و دیگر نے کہا کہ سوات قومی کانفرنس کا انعقاد سوات ایکسپریس وے فیز IIکا زرعی زمینوں، میورادر باغات، ابادیوں اور مقبروں پر تعمیر کے بجائے مجوزہ ایکسپریس وے کو دریائے سوات کے کنارے ہی تعمیر کرانے اور سوات کے پہاڑوں میں ایک بار پھر مسلح جتھوں کے نمودار ی اور ریاست کے مشکوک کردار کے تناظر میں ہوا،اس موقع پر کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اعلامیہ کہ منظوری دیتے ہوئے کہا کہ سوات ایکسپریس وے فیز IIکی تعمیر سوات کی زرعی زمینوں، پھل دار باغات، ابادیوں اور مقبروں پر تعمیر کا حکومتی اصرار ضد اور بے جا ھٹ دھرمی پر مبنی اور سوات کا معاشی قتل ہے لہٰذا یہ کانفرنس یک زباں ہوکر حکومت پر واضح کرتا ہے کہ مذکورہ ایکسپریس وے فیز II کو دریائے سوات کے کنارے پر تعمیر کے تجویز کو ترجیح دی جائے، اعلامیہ میں اس بات پر شدید تشویش کا ظہار کیا گیا کہ سوات میں ریاست اور حکومتوں کی بھر پور موجودگی کی باوجود قانون شکن جتھوں کا ظہور نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ یہ ریاست اور حکومت کی صلاحیتوں پر ایک سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی غمازی ہے کہ طاقتور حلقوں کی سہولت کار ی اور سرپرستی کے بغیر اس قسم کی صورت حال کی نموداری نا ممکن ہے، اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ ریاست اور حکومت اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو نبھا تے ہوئے عوام کی جان ومال اور آبرو کی تحفظ کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر سوات کے عوام اپنے جملہ حقوق کے پامالی کی ذمہ داری ریاست اور حکومت پرعائد ہوگی، اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ بارہ اگست پر خوازہ خیلہ کے پر امن مظاہرے کے منتظمین اور مقررین کے خلاف جھوٹے ایف آئی آر کا اندراج شدید ظلم اور بدنیتی پر مبنی عمل ہے لہٰذا اس جھوٹے مقدمے کو فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لئے جائے اور وطن عزیز میں نافذ ایکشن اینڈ ایکٹ آف سول پاور ریگولیشن کا کالا قانون فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ یہ شہریوں کی بنیادی حقوق اور آئین سے متصادم ہے، اعلامیہ میں قرار دیا گیا کہ کسی بھی ناپسندیدہ صورت حال کی موجودگی میں سوات کا کوئی بھی شہری اپنا گھر بار نہیں چھوڑیگا اور حالات کا جوان مردی سے مقابلہ کیا جائیگا، شرکاء نے یہ عہد دہرایا کہ وہ سوات میں پائیدار امن اور عوام کے جملہ حقوق کے دفاع کے لئے سوات قومی جرگہ کے پشت پر مظبوطی سے کھڑے رہیں گے، اس موقع پر ایکشن کمیٹی کاقیام عمل میں لایا گیا جس میں سوات قومی جرگہ کے ساتھ سوات میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ایک ضلعی عہدیدار پر مشتمل ہوگی۔۔ 

( خبر جاری ہے )

Comments
Loading...