کبل جوڈیشل کمپلکس میں  قتل کے ملزم کو قتل کردیا گیا، ملزمان گرفتار، وکلاء کا احتجاج

سیکورٹی میں غفلت برتنے پر دو پولیس اہلکار موقع پر معطل جبکہ لیڈی پولیس پر انکوائری کا حکم دے دیا گیا

سوات(زما سوات ڈاٹ کام) جوڈیشل کمپلیکس کبل میں کمرہ عدالت کے باہر فائرنگ،ہتھکڑیوں میں بند پیشی کیلئے آنے والا شخص قتل،عدالتوں میں بھگدڑ مچ گئی،خوف وہراس پھیل گیا،پولیس نے عدالت کے اندر سے باپ سمیت دو بیٹے گرفتار کرلئے،دو عدد پستول اور ایک چھری برآمد کرنے کا دعویٰ،واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ بتایا جارہاہے،واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی انوسٹی گیشن شاہ حسن خان،ڈی ایس پی سرکل زاہد خان اور ایس ایچ او شکیل خان فوری پہنچ گئے،سیکورٹی میں غفلت برتنے پر دو پولیس اہلکار موقع پر معطل جبکہ لیڈی پولیس پر انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔ گزشتہ روز قتل کے مقدمے میں گرفتار شخص نذیر ولد فضل قیوم عمر تقریباً 39 سال ساکن آوار پٹے میاں بیلہ تحصیل کبل جوڈیشل کمپلیکس کبل میں پیشی کیلئے آیا تھا کہ عدالت میں پیشی سے قبل ملزمان نے اس پر فائرنگ کردی جسے شدید زخمی حالت میں کبل ہسپتال منتقل کردیا گیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ پولیس نے موقع پر عدالت کے اندر سے تین افراد خان بہادر ولد خان پور میاں بیلہ،صاحب زادہ ولد خان بہادر،ذاہد ولد خان بہادر کو گرفتار کرلیا ، کبل پولیس کے SHO شکیل خان نے موقع پر بتایا کہ واقعے میں ملوث تین افراد باپ اور بیٹوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے دو عدد پستول اور ایک چھری برآمد کرلی ہے جبکہ واقعے کی مذید تحقیقات جاری ہے،عدالت کے اندر پیش آنے والے واقعے سے بھگدڑ مچ گئی اور پیشی پر آنے والے دیگر افراد ادھر ادھر بھاگ نکلے جس سے عدالتوں کے اندر خوف وہراس کی فضاء پھیل گئی بعد ازاں تمام عدالتی کاروائی اگلے روز تک معطل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ۔ایس پی انوسٹی گیشن شاہ حسن خان،ڈی ایس پی کبل سرکل زاہد خان اور ایس ایچ او شکیل خان پہنچ گئے اس دوران  سیکورٹی میں غفلت اور لاپرواہی پر دو پولیس اہلکاروں کو موقع پر معطل کردیا گیا جبکہ ایک لیڈی کانسٹیبل پر انکوائری کی ہدایت  جاری کردی ۔

کبل بار کے صدر سردار احمد خان ایڈووکیٹ و دیگر  وکلاء برادری نے جوڈیشل کمپلیکس کبل کے اندر پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ عدالتوں کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے جس سے وکلاء کسی صورت مطمئن نہیں بار کے صدر و وکلاء نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ سے مطالبہ کیا کہ عدالت میں قتل کی وجوہات لاک اپ،باروم اور سائلین کیئے جگہ کا نہ ہونا ہے۔ ڈپٹی کمشنر سوات سے اس بابت سینکڑوں بار رابطہ کیا گیا لیکن وہ وزیر اعلیٰ کے سیاسی سیکرٹری زیادہ اور ڈپٹی کمشنر کم ہونے کے ناطے اس اہم مسئلے کو ٹال رہے ہیں ۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...