Browsing Tag

کالم

پرانے سیدو شریف کی طعام گاہیں

ریاست کے ابتدائی سالوں میں سیدو شریف اپنے مقدمات یا دوسرے امور کے لیے آنے والے لوگ بلا تخصیص سرکاری مہمان خانے یا بڑینگل میں کھانا کھاتے تھے۔ اس لیے سیدو کے بازار میں کوئی ہوٹل وغیرہ نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگ چاہے مقامی ہوں یا بیرونی، سیدوبابا کے لنگر خانے سے بھی استفادہ کرسکتے تھے۔ بعد میں جب مقد مات اور دیگر معاملات کے لیے لوگوں کی آمد و رفت بڑھنے…
Read More...

زائد وناجائز منافع خوری مگر کب تک ؟؟

ایشیا کے سوئٹزرلینڈ ضلع سوات میں عام دنوں میں خودساختہ مہنگائی ،زائد منافع خوری،ناقص اورغیر معیاری اشیائے خوردونوش کا کاروبار جاری رہتاہے اورکاروباری لوگ من مانے نرخوں پرناقص اشیاء فروخت کرنے اورلوگوں کو لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں مگر رمضان کے بابرکت مہینے میں یہ سلسلہ کافی تیز ہوجاتا ہے ،اس سال بھی ماہ رمضان کے آتے ہی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت…
Read More...

پیشہ ورگداگرعوام کیلئے وبال جان

تحریر : ناصرعالم سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں پیشہ ور بھیک منگوں کی بھر مار نے ضلع کے تمام علاقوں پر یلغار کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع کررکھاہے ،عید کی آمد پر غیرمقامی اور خانہ بدوش پیشہ ورگداگروں نے مینگورہ شہر کا رخ کرلیاہے جوبازاروں،مارکیٹوں اورگلی کوچوں میں گھومتے پھرتے ،مساجد کے سامنے بیٹھے ودیگرمقامات پر یہ گداگر منڈلاتے اورمختلف…
Read More...

ہم اتنے برے نہیں

جوں ہی رمضان وغیرہ کی آمد ہوتی ہے، ماہِ مبارک کی برکات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اصلاح کے لیے اور کچھ لوگ بدنیتی سے کہنا شروع ہوجاتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں تو تہواروں پر چیزیں سستی ہو جاتی ہیں اور اسلام کے نام پر بنے ملک میں مہنگائی کا طوفان سر اٹھا لیتا ہے۔ یہاں تک تو بات درست ہے، لیکن جب ہم اس بنیاد پر اپنے ملک، قوم اور…
Read More...

د باران پہ دی موسم کی

تحریر: روح الامین نایابؔ ’’د باران پہ دی موسم کی‘‘ نازیہ درانی کی پشتو شاعری کا مجموعہ ہے جو مجھے میرے مہربان دوست پروفیسر عطاء الرحمان عطاؔ صاحب نے بطورِ تحفہ عطا کیا ہے۔ اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ پشتو شاعری کی کتابوں کی ترتیب و تدوین میں عطاؔ صاحب کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اُن کی خدمات اور دوڑ دھوپ قابلِ تحسین اور قابلِ قدر…
Read More...

وادئی دوبیر کی یادیں

تحریر: فضل رازق شہاب ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ریاست کے وہ دور دراز اور ناقابل رسائی علاقے جہاں پر معمول کی تعمیراتی سرگرمیوں میں کئی روکاوٹیں ہوتی ہیں، وہاں پر مقامی تحصیلدار کی نگرانی میں صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مقامی ذرائع سے آبادیاں تعمیر کی جائیں گی۔ زمین عوام فراہم کرے گی اور تعمیرات کا…
Read More...