سوات: سینئر صحافی حیدر علی جان پیکا ایکٹ اور دیگر مقدمات کے تحت گرفتار، صحافی برادری نے ان کی گرفتاری کو صحافت پر حملہ قرار دے دیا۔

ضلع سوات تحصیل خوازہ خیلہ سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی حیدر علی جان کی گرفتاری نے ملاکنڈ ڈویژن بھر میں صحافی برادری کو ایک نئی بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ان پر پیکا ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act) اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے خود کو فتح پور پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس اقدام نے نہ صرف سوات بلکہ پورے ڈویژن میں صحافت، آزادی اظہار، اور قانون کے استعمال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حیدر علی جان سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سوات پولیس کی کارکردگی، مبینہ بدعنوانی اور منشیات فروشوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گرفتاری ایک پرانی انکوائری کو بنیاد بنا کر کی گئی ہے، جسے وہ ذاتی عناد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ گرفتاری سے قبل انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں محض سچ لکھنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
پولیس کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حیدر علی جان نہ تو رجسٹرڈ صحافی ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق کسی تسلیم شدہ پریس کلب سے ہے۔ مزید یہ کہ ان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ ان کی صحافتی سرگرمیوں سے متعلق نہیں بلکہ ایک باقاعدہ قانونی انکوائری کا حصہ ہیں۔
حیدر علی جان کی گرفتاری کے بعد خوازہ خیلہ پریس کلب کے صحافیوں، ٹریڈ فیڈریشن کے نمائندوں، بلدیاتی نمائندوں اور سوشل ورکرز نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ گرفتاری نہ صرف فرد واحد کے خلاف ہے بلکہ صحافت کے بنیادی اصولوں اور آزادی اظہار کے خلاف بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔
ملاکنڈ یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزاد عالم نے عدالت میں حیدر علی جان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی پر سزا دی جائے گی تو یہ جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔
صحافی خواجہ عرفان نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا، “یہ گرفتاری صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ حق، سچائی اور آزادیِ رائے کی زنجیربندی ہے۔” جبکہ ایک اور صحافی عبید فضل نے حیدر علی جان کی ہتھکڑیوں میں تصویر کے ساتھ لکھا، “یہ کوئی مجرم نہیں… یہ ایک سوال ہے اس نظام سے، جس میں سچ بولنے والے کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔”
پیکا ایکٹ، جس کے تحت حیدر علی جان کو گرفتار کیا گیا، پاکستان میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اظہار رائے کے لیے بنائے گئے قوانین میں سب سے زیادہ متنازع رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو آزادی اظہار پر قدغن قرار دیتی رہی ہیں۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس قانون کے اطلاق، اس کی حدود اور اس کے غلط استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حیدر علی جان کی گرفتاری، اس کے پیچھے کی وجوہات، پولیس کا مؤقف اور صحافتی برادری کا ردِعمل — یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں صحافت، قانون، اور طاقت کے درمیان تعلق اب بھی غیر متوازن ہے۔ سچ لکھنے اور بولنے کی قیمت اگر گرفتاری ہے، تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آزادی اظہار کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہو جاتی ہے۔



