فضاگٹ بائی پاس پر مصنوعی جھیل تعمیر کرکے نیا سیاحتی مقام بنانے کی تجویز

تحریر: ندیم اقبال
ضلع سوات قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، دریاؤں اور خوبصورت جھیلوں کی وجہ سے ملک بھر میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اس وادی کا رخ کرتے ہیں، تاہم سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر سوات میں نئے تفریحی اور سیاحتی مقامات کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
اسی تناظر میں فضاگٹ بائی پاس کے قریب دریائے سوات کے کنارے ایک مصنوعی جھیل تعمیر کرکے اسے نئے سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی جا سکتی ہے۔ اگر اس تصور کو مناسب منصوبہ بندی، جدید انجینئرنگ اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے مطابق عملی شکل دی جائے تو یہ مقام نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سوات آنے والے سیاحوں کے لیے بھی ایک نئی تفریحی سرگرمی کا مرکز بن سکتا ہے۔
فضاگٹ بائی پاس پر مصنوعی جھیل کا تصور
اس تجویز کے تحت فضاگٹ بائی پاس کے قریب دریائے سوات کے کسی موزوں حصے کا انتخاب کرکے وہاں تقریباً ایک کلومیٹر طویل مصنوعی جھیل تعمیر کی جا سکتی ہے۔ ابتدائی تصور کے مطابق جھیل کی کھدائی چھ سے آٹھ فٹ تک کی جا سکتی ہے، تاہم اس کی حتمی گہرائی اور ساخت کا تعین متعلقہ ماہرین کے تکنیکی جائزے کے بعد ہونا چاہیے۔
اس منصوبے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جھیل کی کھدائی کے دوران نکلنے والی بجری اور ریت کو قانونی طریقے سے ٹھیکے پر دے کر اس سرگرمی کو منصوبے کے معاشی پہلو سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح بجری کی نکاسی کو محض ایک تجارتی سرگرمی کے بجائے ایک باقاعدہ سیاحتی منصوبے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
جھیل کے کناروں کو مقامی دریائی پتھروں اور انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق مناسب حفاظتی ڈھانچے سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے، جبکہ اردگرد خوبصورت واکنگ ٹریک، بیٹھنے کی جگہیں اور دیگر تفریحی سہولیات بھی تعمیر کی جا سکتی ہیں۔
اس جھیل کا تصور کالام کی مشہور مہوڈنڈ جھیل سے متاثر ہو سکتا ہے، تاہم فضاگٹ کی جغرافیائی اور شہری ضروریات کے مطابق اس کا ڈیزائن اور سہولیات مختلف رکھی جا سکتی ہیں۔
سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے تفریحی سہولیات

فضاگٹ بائی پاس کے قریب مصنوعی جھیل تعمیر ہونے سے مینگورہ شہر اور اس کے گردونواح کے رہائشیوں کو ایک نئے تفریحی مقام کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔ یہاں فیملیز کے لیے مناسب بیٹھنے کی جگہیں، کشتی رانی، بچوں کے لیے کھیلنے کے مقامات، فوڈ اسٹالز، چھوٹے ریستوران اور دیگر تفریحی سرگرمیاں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سیاحوں کو شہر سے زیادہ دور سفر کیے بغیر تفریح کا موقع مل سکتا ہے۔ خصوصاً ہفتہ وار تعطیلات اور چھٹیوں کے دنوں میں یہ مقام مقامی خاندانوں اور سیاحوں کے لیے دلچسپی کا مرکز بن سکتا ہے۔
اگر اس مقام کو مناسب سہولیات اور انتظامی نگرانی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ فضاگٹ کی سیاحتی اہمیت میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع
کسی بھی نئے سیاحتی مقام کی تعمیر کا فائدہ صرف سیاحوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے مقامی معیشت کو بھی تقویت ملتی ہے۔
مصنوعی جھیل کے اطراف چھوٹے کاروبار، کھانے پینے کے مراکز، دکانیں، کشتی رانی اور دیگر تفریحی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔ ان سرگرمیوں سے مقامی نوجوانوں، کاروباری افراد اور محنت کش طبقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ اور دیگر خدمات سے وابستہ کاروباری افراد کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
مقامی حکومت کے لیے آمدن کا ذریعہ

اس منصوبے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جھیل کو مکمل ہونے کے بعد شفاف نیلامی یا قانونی ٹھیکے کے ذریعے چلانے کا انتظام کیا جائے۔
داخلہ فیس، پارکنگ، کشتی رانی کے کرائے، دکانوں اور ریسٹورنٹ کے کرائے سمیت مختلف ذرائع سے آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ آمدن متعلقہ مقامی اداروں کے لیے مالی وسائل کا ذریعہ بن سکتی ہے، جبکہ مقامی کاروباری افراد کو بھی اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا موقع ملے گا۔
یوں ایک مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے فضاگٹ بائی پاس کے قریب ایک ایسا مقام وجود میں آ سکتا ہے جو سیاحت کے فروغ کے ساتھ مقامی کاروبار اور روزگار میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔
منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اور تکنیکی جائزہ ضروری
اگرچہ یہ تجویز سیاحت اور مقامی معیشت کے حوالے سے امکانات رکھتی ہے، تاہم دریائے سوات کے قدرتی ماحول اور بہاؤ کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
کسی بھی قسم کی کھدائی یا جھیل کی تعمیر سے پہلے محکمہ آبپاشی، محکمہ ماحولیات، سول انجینئرنگ اور آبی وسائل کے ماہرین سے مشاورت کی جائے۔ دریا کے قدرتی بہاؤ، سیلابی راستوں، زیرِ زمین پانی، آبی حیات اور قریبی آبادیوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مجوزہ کھدائی سے پلوں کی بنیادوں، حفاظتی پشتوں اور دریا کے قدرتی نظام کو نقصان نہ پہنچے۔ صرف کنکریٹ کے پشتے تعمیر کرنا سیلابی خطرات سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں، اس لیے کسی بھی تعمیراتی کام کا ڈیزائن مستند انجینئرنگ اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
متعلقہ اداروں سے فزیبلٹی اسٹڈی کرانے کی ضرورت
میری رائے میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ سیاحت، محکمہ آبپاشی، محکمہ ماحولیات اور مقامی حکومت کو فضاگٹ بائی پاس کے قریب مصنوعی جھیل کی تعمیر کی اس تجویز کا جائزہ لینا چاہیے۔
ابتدائی طور پر متعلقہ ماہرین کے ذریعے فزیبلٹی اسٹڈی کرائی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس مقام پر مصنوعی جھیل تعمیر کرنا تکنیکی، ماحولیاتی اور معاشی اعتبار سے ممکن ہے یا نہیں۔
اگر سروے کے نتائج مثبت ہوں تو محدود پیمانے پر پائلٹ منصوبے کے طور پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں مقامی آبادی اور کاروباری طبقے کی مشاورت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ منصوبے کے فوائد براہِ راست مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
اختتامیہ
سوات میں سیاحت کے فروغ کے لیے صرف موجودہ سیاحتی مقامات پر انحصار کرنے کے بجائے نئے مقامات کی منصوبہ بندی بھی وقت کی ضرورت ہے۔ فضاگٹ بائی پاس کے قریب دریائے سوات پر مصنوعی جھیل کی تعمیر کا تصور اسی سلسلے کی ایک ابتدائی تجویز ہے۔
اگر متعلقہ ادارے اس تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ماہرین اسے محفوظ اور قابلِ عمل قرار دیں تو فضاگٹ بائی پاس کو ایک نئے تفریحی اور سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف سیاحوں کو ایک نئی تفریحی سہولت ملے گی بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار، چھوٹے کاروباروں کے لیے مواقع اور بلدیاتی اداروں کے لیے آمدن کے نئے ذرائع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔



