مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام لویہ جرگہ، وفاقی و صوبائی حکومت سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ

ملاکنڈ: عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام مالاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف ایک عظیم الشان لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں خیبرپختونخوا بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین، اراکین اسمبلی، وکلاء، تاجر برادری، ہوٹل ایسوسی ایشنز، ٹرانسپورٹرز، چیمبر آف کامرس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جرگے کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ عوام کے ساتھ کیے گئے تاریخی، آئینی اور قانونی وعدوں کے منافی ہے، لہٰذا اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

لویہ جرگہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ 2024 سے نافذ سیلز ٹیکس آن سروسز اور اس حوالے سے کی گئی قانونی ترامیم بھی واپس لی جائیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات سے شدید متاثر رہے ہیں، جہاں عوام نے بھاری جانی و مالی نقصانات، بے گھری اور معاشی تباہی کا سامنا کیا۔ ان حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ متاثرہ عوام پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ ہوگا۔

شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن معدنی وسائل، جنگلات، پن بجلی اور دیگر قدرتی وسائل سے ملک کو خاطر خواہ آمدن فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود مقامی آبادی بنیادی سہولیات، روزگار، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہے۔ جرگے نے مطالبہ کیا کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں مقامی آبادی کا پہلا حق تسلیم کیا جائے اور اس کا خاطر خواہ حصہ علاقے کی ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیا جائے۔

اعلامیے میں ضم اضلاع میں معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن کا 60 فیصد انہی اضلاع پر خرچ کرنے، جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں قائم سات پن بجلی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی ضرورت کے مطابق رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

لویہ جرگہ نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ کے بروقت اجرا، صوبوں کے آئینی مالی حقوق کی ادائیگی، آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنانے اور ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اعلامیے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع سے متعلق کسی بھی آئینی، مالی یا انتظامی فیصلے سے قبل مقامی منتخب نمائندوں، سیاسی جماعتوں، تاجروں، وکلاء اور سول سوسائٹی سے بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ، تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی، شاہراہوں، پلوں، مواصلاتی نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج، ترقیاتی گرانٹس، نوجوانوں کے لیے روزگار، صنعتی مراعات اور سرمایہ کاری کے خصوصی منصوبوں کا اعلان کیا جائے۔

اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری، آئینی اور پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

جرگے نے واضح کیا کہ عوام پر نئے معاشی بوجھ مسلط کرنے کے بجائے حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، عوام کی معاشی بہتری، سیاحت کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے حق کو یقینی بنانا ہونی چاہیے۔

اعلامیے کے اختتام پر خبردار کیا گیا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوامی مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو لویہ جرگہ باہمی مشاورت سے آئین و قانون کے دائرے میں مرحلہ وار عوامی تحریک چلانے سمیت تمام جمہوری اور آئینی راستے اختیار کرے گا، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ حکومتوں پر عائد ہوگی۔

Show More
Back to top button