لوئر دیر: حیدرے ٹاپ میں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ، دو اہلکار شہید، 16 زخمی

لوئر دیر: ضلع لوئر دیر کے علاقے خال میں ادینزئی اور خال کی سرحد پر واقع حیدرے ٹاپ میں بدھ کے روز پولیس اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ 16 اہلکار زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے حیدرے ٹاپ اور لڑم کے پہاڑی علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاعات پر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کر رہے تھے۔ آپریشن کے دوران مسلح افراد نے اچانک پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر دیا، جس کے بعد دونوں جانب کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید اور 16 اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تیمرگرہ منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
زخمی اہلکاروں میں بخت بیدار، امیر محمد، ریحان اللہ، نصیب خان، مفتاح الدین، عزت اللہ، محبوب علی، اے ایس آئی آصف خان، شہاب خان، رازی محمد، حبیب الحسن، جواد اللہ، نواب، لقمان بہادر، محمد ندیم اور دیگر شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے جھڑپ کے دوران پولیس کی تین موبائل گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں سڑک نہ ہونے کے باعث گاڑیاں ایک مقام پر کھڑی تھیں۔
ذرائع کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جوابی کارروائی میں مسلح افراد کو کوئی جانی نقصان پہنچا یا نہیں۔ اندھیرا چھانے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ رک گیا، تاہم علاقے میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی برقرار رہی۔
تاحال پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، اس لیے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات سرکاری تصدیق کی منتظر ہیں۔



