وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اجلاس، سرکاری ملازمین کے خلاف 827 احتسابی کیسز کا جائزہ

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اجلاس میں سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 سے اب تک مجموعی طور پر 827 کیسز سامنے آئے، جن میں سے 629 کیسز کے فیصلے ہو چکے ہیں جبکہ 198 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔

بریفنگ کے مطابق فیصلہ شدہ 629 کیسز میں 589 افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئیں، جبکہ 40 ملازمین کو بری کیا گیا۔ احتسابی کارروائیوں کے نتیجے میں 128 ملازمین کو سروس سے فارغ، 18 کو ڈس مس فرام سروس اور 6 ملازمین کو جبری ریٹائر کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2 ملازمین کی تنزلی، ایک کی گرفتاری، 89 ملازمین کی تنخواہوں سے ریکوری اور 39 ملازمین کی ترقی روکنے کی کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ 16 ملازمین کو چارج شیٹ، 14 کی تنخواہوں میں کٹوتی اور 10 ملازمین کو معطل کیا گیا۔ 155 ملازمین کو وارننگ جبکہ 52 کی سرزنش کی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیوں میں غیر مجاز غیر حاضری سب سے بڑا سبب رہی، جس کے 447 کیسز سامنے آئے جو مجموعی کیسز کا 54 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیوٹی میں غفلت کے 120، کرپشن و مالی بے ضابطگیوں کے 75، نااہلی کے 75، بدسلوکی کے 14، ناقص نگرانی کے 13 اور قواعد کی خلاف ورزی کے 11 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ احتسابی کارروائیوں میں 221 شوکاز نوٹس، 279 وضاحت طلبی کے کیسز، 184 انکوائریاں، 102 معطلیاں، 23 اظہارِ ناپسندیدگی اور 9 او ایس ڈی کی کارروائیاں شامل ہیں۔

محکمہ جاتی تفصیلات کے مطابق ضلع دفاتر سے 305، منسلک محکموں و اداروں سے 263 جبکہ مرکزی محکموں سے 259 کیسز سامنے آئے۔ صحت کے شعبے میں فیلڈ وزٹس کے دوران ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی کے 90 اور ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال لکی مروت کے 61 افسران و اہلکاروں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ احتساب سے کوئی بالاتر نہیں، سرکاری نظام میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور کرپٹ عناصر کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوامی خدمت کے اداروں میں بہتری، ذمہ داری کا احساس اور مؤثر نگرانی یقینی بنانے کے لیے احتسابی عمل جاری رکھا جائے گا۔

Show More
Back to top button