آج کی خبریںاہم خبریںسوات کی خبریںفیچرز

دریائے سوات کا فطری حلیہ بگاڑنے کا ذمہ دار کون؟ موسمیاتی تبدیلی یا انسان؟

سوات کی حسین وادی، جو کبھی سبز جنگلات، شفاف ندیوں اور دریائے سوات کے نیلگوں پانی کے باعث جنت نظیر سمجھی جاتی تھی، آج انسانی مداخلت اور بے رحم ترقی کی قیمت چکا رہی ہے۔ ہر سال آنے والے سیلاب، دریا کے بدلتے بہاؤ اور مقامی ماحولیاتی نظام کی تباہی نے ایک بڑا سوال اٹھا دیا ہے: کیا یہ سب قدرتی آفت ہے یا انسانوں کی اپنی پیدا کردہ تباہی؟

دریا کے کنارے بے ہنگم تعمیرات

مینگورہ سے کالام تک دریائے سوات کے کنارے قائم سینکڑوں ہوٹلز اور ریسٹورنٹس نے دریا کے قدرتی بہاؤ کو تنگ کر دیا ہے۔ حالیہ فضاء گٹ بائی پاس سانحے میں جب دو سیاحتی خاندان سیلابی پانی کے بیچ پھنس گئے اور 13 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، تو مقامی افراد نے دریا کنارے ہوٹلز کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ 

مینگورہ کے رہائشی ساجد خان صورتحال کی سنگینی پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“فضاء گٹ بائی پاس سمیت پورے سوات میں زیادہ تر ہوٹلز اور ریسٹورنٹس دریا کے کنارے یا حدود کے اندر تعمیر ہیں۔ ان عمارتوں نے دریا کے حدود کو تنگ کر دیا ہے جس سے پانی کا بہاؤ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اگر ان تجاوزات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے تو دریا اپنی اصل حالت میں بحال ہو سکتا ہے۔”

وہ مزید کہتے ہیں کہ دریا کے حدود میں مسلسل بڑھتی تعمیرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت ریور پروٹیکشن ایکٹ کو عملی طور پر نافذ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

“اگر حکومت اسی طرح خاموش رہی تو اس طرح کے سانحات معمول بن جائیں گے، اور انسانی جانوں کا ضیاع مزید بڑھتا جائے گا۔”

سوات کی تاریخ کے دو بڑے سیلاب – 2010 اور 2022 – نے وادی کو بری طرح متاثر کیا۔ ان سیلابوں نے دریائے سوات کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ بحرین بازار کا ایک بڑا حصہ دریا برد ہو گیا۔ کالام، مدین اور بحرین سمیت پورے سوات میں کئی مہنگے ہوٹلز اور پل بہہ گئے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔

2022 میں دریائے سوات کا بہاؤ 2 لاکھ 46 ہزار کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد بھی دریا کا بہاؤ 9,444 کیوسک تک پہنچ چکا ہے اور مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

انوائرمینٹل پروٹیکشن سوسائٹی کے چیئرمین اکبر زیب کا کہنا ہے:

“ریور ایکٹ موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ دریا کے کنارے تعمیرات سے نہ صرف یہ عمارتیں بلکہ محفوظ علاقے بھی خطرے میں آ گئے ہیں۔ ڈیفارسٹریشن اور کنکریٹ نے زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ اب بارش کا پانی سیدھا دریا میں جاتا ہے اور سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔”

مقامی آبادی موسمیاتی تبدیلی اور تعمیرات سے دہری مصیبت کا شکار

کالام اور مٹلتان کے رہائشی اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ہر سال دریائے سوات میں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو دوسری جانب مقامی اور بیرونی سرمایہ دار دریا کے کنارے روز بروز غیر قانونی تعمیرات کر رہے ہیں، جس سے پانی کا قدرتی بہاؤ متاثر ہو رہا ہے۔

مٹلتان کے رہائشی گل زمان، جو 2022 کے سیلاب کے متاثرین میں شامل ہیں، دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں:

“2022 میں ہمارا آبائی گاؤں پلوگا پورا پورا سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ گاؤں میں تقریباً 150 سے زیادہ گھر تھے، اس کے ساتھ کھیت اور زرخیز زمینیں بھی تھیں، جو سب دریا میں بہہ گئیں۔”

دریا کے کنارے ہوٹلوں کا گندا پانی: دریائے سوات کی آب حیات خطرے میں

وادیٔ سوات میں قائم تقریباً 500 ہوٹلز نہ صرف دریا کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں بلکہ ان کا گندا پانی اور کچرا بھی براہِ راست دریائے سوات میں پھینکا جا رہا ہے۔ اس ماحولیاتی آلودگی نے دریا کی آب حیات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

کالام کے رہائشی ملک فضل حق اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“کالام میں ایک طرف ان ہوٹلوں نے دریا کے حدود کو تنگ کر دیا ہے اور دوسری جانب ان کا سارا کچرا اور گندا پانی دریا میں جا رہا ہے۔ اس سے دریائے سوات کی مقامی نسل کی مچھلیاں ختم ہونے کے قریب ہیں۔”

کرش پلانٹس کا راج اور دریائے سوات کا بگڑتا قدرتی نظام

دریائے سوات، جو کبھی زندگی کا منبع تھا، آج انسانی مداخلت اور لالچ کا شکار ہو چکا ہے۔ اس وقت سوات میں تقریباً 40 کرش پلانٹس روزانہ کی بنیاد پر دریا میں کھدائی کر رہے ہیں۔ یہ پلانٹس دریا سے ریت، بجری اور پتھر نکال کر نہ صرف اس کا قدرتی حلیہ بگاڑ رہے ہیں بلکہ دریا کے ماحولیاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

دریا میں موجود آب حیات، خاص طور پر مقامی نسل کی مچھلیاں، معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر دریائے سوات میں غیر قانونی اور حد سے زیادہ کھدائی جاری رہی تو یہ دریا اپنی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی توازن کھو دے گا۔

مینگورہ کے رہائشی عابد علی جان حالیہ سانحہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“چند ہفتے پہلے جب فضاء گٹ میں 15 افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے، اس کے ذمہ دار بھی یہی کرش مافیا ہیں۔ انہوں نے دریا سے ریت بجری نکالنے کے لیے دریا کے اندر بند باندھا تھا جو ڈیم کی شکل اختیار کر گیا۔ جب یہ بند ٹوٹا تو سارا پانی اچانک سیاحوں کی طرف بڑھ گیا اور 13 افراد بہہ گئے۔”

فضاء گٹ سانحہ کے بعد آدھا ادھورا آپریشن

فضاء گٹ بائی پاس کے قریب پیش آنے والے المناک واقعے میں جب 15 سیاح دریا کے بیچ پھنسنے کے بعد سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے، تو حکومت نے فوری طور پر دریا کنارے تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ ابتدائی طور پر چند ریسٹورنٹس اور ہوٹلز گرائے گئے، لیکن زیادہ دیر یہ عمل جاری نہ رہ سکا۔ بااثر مافیا کے دباؤ نے انتظامیہ کی کمر توڑ دی اور آپریشن اچانک روک دیا گیا۔

مقامی ماہرین اور شہری خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی بااثر افراد ریور ایکٹ کو یوں پاؤں تلے روندتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب دریائے سوات اپنا رخ تبدیل کر کے مینگورہ شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور تب کی تباہی ناقابلِ تصور ہوگی۔

Kalam Swat

Related Articles

Loading...
Back to top button