سوات: فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس کا نفاذ ناقابلِ قبول، عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، فضل حکیم خان

سوات (بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس کا نفاذ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس عوام دشمن فیصلے کے خلاف ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فضل حکیم خان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن، فاٹا اور دیگر قبائلی اضلاع کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے زلزلوں، سیلاب، دہشت گردی اور بدامنی کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہے ہیں، اس لیے ان علاقوں پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام ٹیکس سے چلتا ہے، تاہم ایسے علاقوں پر ٹیکس نافذ کرنا مناسب نہیں جن کے عوام پہلے ہی بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں اور اب بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور فاٹا و پاٹا کے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرے۔

فضل حکیم خان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن، وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں کے سرمایہ کاروں نے ملاکنڈ ڈویژن میں صنعتیں قائم کر رکھی ہیں، جن سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ اگر ان علاقوں میں ٹیکس نافذ کیا گیا تو سرمایہ کار صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے بے روزگاری میں اضافہ اور بدامنی و جرائم کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس اب بھی اس فیصلے کو واپس لینے کا آئینی اختیار موجود ہے، لہٰذا عوامی مفاد میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور ان علاقوں کو مزید مہلت دی جائے۔

رکن صوبائی اسمبلی نے اعلان کیا کہ ملاکنڈ ریجن میں ٹیکس کے خلاف جہاں بھی عوام احتجاج کریں گے، وہاں پاکستان تحریک انصاف کے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور ان کے حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کریں گے۔

فضل حکیم خان نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن، شانگلہ، سوات، باجوڑ، دیر اور وزیرستان سمیت متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے قائل کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ مقامی معیشت، صنعت اور ہزاروں افراد کے روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Show More
Back to top button