سوات: ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس، احتجاجی تحریک کا اعلان، مشترکہ اعلامیہ جاری

سوات (عارف احمد): ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے مجوزہ فیصلے کے خلاف مینگورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں حکومت کے اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی و قانونی حیثیت اور ٹیکس استثنیٰ ختم کرکے کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس نافذ کرنے کی کوشش ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔
کانفرنس کا انعقاد مقامی تڑون جرگہ بابوزئی سوات کے زیر اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلاء، تاجروں، چیمبر آف کامرس، سول سوسائٹی، عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء میں قومی تڑون جرگہ کے ترجمان اور پیپلز پارٹی کے سابق ضلعی صدر عرفان چٹان، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر و سابق ایم پی اے محمد امین، مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر قوی خان، پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر اکرام خان، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی صدر مولانا قمر، اے این پی کے رہنما اور سابق تحصیل ناظم اکرام خان، قومی وطن پارٹی کے ضلعی صدر شیر بہادر خان، ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر حاجی زاہد خان، ٹریڈ فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں اور دیگر مشران نے شرکت کی۔
کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ اور خصوصی حالات سے متاثرہ خطہ ہے، جہاں کے عوام دہشت گردی، فوجی آپریشنز، نقل مکانی، معاشی بدحالی، سیلاب اور ترقیاتی محرومیوں کے باعث طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہلے علاقے کی معاشی، صنعتی اور تجارتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ترقیاتی وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائے، اس کے بعد ہی کسی نئے مالی بوجھ پر غور کیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام، تاجروں، صنعتکاروں اور مقامی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہوگا، لہٰذا حکومت فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنیٰ کو برقرار رکھنے کا اعلان کرے اور اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات واپس لے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتیں متحد رہیں گی اور مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا تو تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے پرامن، آئینی اور جمہوری احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
کانفرنس کے اختتام پر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور احتجاجی تحریک میں بھرپور کردار ادا کریں۔
دریں اثناء مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ سوات سے منتخب قومی و صوبائی اسمبلی کے بیشتر اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان نے کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے جرگہ مشران کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنیٰ اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔



