سوات کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ، ڈی سی سوات نے دو روز میں معائنہ رپورٹ طلب کرلی

سوات: ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت کی زیرِ صدارت ضلع سوات کے سرکاری و نجی ہسپتالوں اور طبی مراکز میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی تیاری اور مریضوں کے تحفظ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کی ہدایات اور پمز اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں منعقد کیا گیا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، سول ڈیفنس آفیسر سوات، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈسٹرکٹ انسپکٹر ہیلتھ کیئر کمیشن، ریسکیو 1122، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے نمائندگان، نجی ہسپتالوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع بھر کے ہسپتالوں میں فائر ڈیٹیکشن و الارم سسٹمز، آگ بجھانے کے آلات، بجلی کی وائرنگ، آکسیجن اور میڈیکل گیس سسٹمز، ایمرجنسی اخراج کے راستوں، آئی سی یو، این آئی سی یو، بیک اپ پاور، عملے کی تربیت، ایمرجنسی رسپانس اور موک ڈرلز سمیت دیگر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام کو ضلع کے تمام نجی ہسپتالوں کا جامع معائنہ کرکے دو روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، جبکہ محکمہ صحت کو تمام سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کا معائنہ مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ معائنوں کو صرف رپورٹنگ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ نشاندہی شدہ خامیوں بالخصوص انسانی جانوں کے لیے خطرہ بننے والی خامیوں کا فوری تدارک یقینی بنایا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے ہسپتالوں میں آگ بجھانے کے آلات کو فعال رکھنے، غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ درست کرنے، ایمرجنسی اخراج کے راستے کھلے رکھنے اور آکسیجن سلنڈرز و میڈیکل گیس سسٹمز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کو ہسپتالوں کی فائر سیفٹی، ایمرجنسی انخلاء اور موک ڈرلز کے حوالے سے ضروری تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سوات کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹیجنسی پلان بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور بروقت رسپانس کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر سوات نے تمام متعلقہ محکموں اور ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کی جان و سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے حفاظتی انتظامات مؤثر بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ حفاظتی خامیوں کے مکمل خاتمے تک نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔



