طورخم بارڈر کھل گیا، افغانستان میں پھنسے 67 پاکستانی طلبہ وطن واپس پہنچ گئے

طورخم: پاک افغان طورخم بارڈر کی طویل بندش کے باعث افغانستان میں پھنسے 67 پاکستانی طلبہ بالآخر وطن واپس پہنچ گئے۔ طلبہ کئی ماہ سے افغانستان میں موجود تھے جبکہ گزشتہ تین روز سے طورخم بارڈر پر واپسی کے منتظر تھے۔
ذرائع کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی خیبر کے سینئر نائب صدر حاجی شیرین خان آفریدی کی کوششوں سے متاثرہ طلبہ کو طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان واپس آنے کی اجازت ملی۔ اس موقع پر حاجی شیرین خان آفریدی اور شبیر آفریدی خود طورخم بارڈر پہنچے، جہاں انہوں نے طلبہ کا استقبال کیا اور ان کی وطن واپسی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ونگ کمانڈر کرنل وقاص کی جانب سے طلبہ کے لیے کھانے پینے اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا گیا، جس کے بعد تمام طلبہ کو بحفاظت اپنے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
اس موقع پر حاجی شیرین خان آفریدی نے چیئرمین سینیٹ، ونگ کمانڈر کرنل وقاص، آئی جی ایف سی نارتھ اور دیگر متعلقہ حکام کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معاونت سے طلبہ کی بحفاظت وطن واپسی ممکن ہوئی۔
وطن واپس پہنچنے والے طلبہ نے بھی متعلقہ حکام اور حاجی شیرین خان آفریدی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
حاجی شیرین خان آفریدی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ پختون قوم کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرتی رہی ہے اور متاثرہ طلبہ کی اپنے گھروں تک محفوظ واپسی بھی اسی خدمت کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔



