محدود وسائل، بڑے حوصلے، افغان مہاجر خواتین کی معاشی خودمختاری کی خاموش جنگ، "ہمیں خیرات نہیں، صرف ایک موقع چاہیے”

سٹوری: عظمیٰ اقبال اور وحیداللہ
سپروائزر: نگہت امان
پشاور کے نواحی علاقے میں ایک چھوٹے سے گھر کے کمرے میں سلائی مشین کی مسلسل آواز گونج رہی ہے۔ دیوار کے ساتھ سجے رنگ برنگے دھاگے، میز پر رکھے آدھے تیار ملبوسات اور کڑھائی کے نفیس ڈیزائن اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں صرف کپڑے نہیں سلے جا رہے، بلکہ ایک خاندان کی امیدیں بھی پروئی جا رہی ہیں۔
ستائیس سالہ شریں اپنے ہاتھوں سے کپڑے پر باریک کڑھائی کرتے ہوئے چند لمحوں کے لیے رُکتی ہیں، پھر دھیمی آواز میں کہتی ہیں”ہمیں خیرات نہیں چاہیے، صرف ایک موقع چاہیے۔ اگر ہمیں کام کرنے دیا جائے تو ہم اپنے بچوں کا مستقبل خود بنا سکتے ہیں”۔
شریں ان ہزاروں افغان مہاجر خواتین میں شامل ہیں جو پاکستان میں محدود وسائل، قانونی رکاوٹوں اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود اپنے خاندانوں کی کفالت اور معاشی خودمختاری کے لیے خاموش مگر مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔
پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔ یہ سفر کبھی عارضی پناہ سے شروع ہوا تھا، مگر وقت کے ساتھ ایک ایسی حقیقت میں تبدیل ہو گیا جہاں کئی نسلیں پاکستان میں پیدا ہوئیں، تعلیم حاصل کی اور زندگی کے خواب یہیں بُننے لگیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل نے اس طویل داستان کو ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 سے 2026 کے دوران تقریباً 27 لاکھ افغان شہری مختلف مراحل میں پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں، جبکہ واپسی کا عمل اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اس کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں، جن کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا، بلوچستان، راولپنڈی اور دیگر شہری مراکز میں رہائش پذیر ہے۔
اس بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے ہزاروں خاندانوں کی معاشی بنیادوں کو متاثر کیا ہے، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر ان خواتین پر پڑا ہے جو محدود وسائل اور سماجی پابندیوں کے باوجود اپنے خاندانوں کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جب گھر کاروبار بن گئے
پشاور میں افغان مہاجر خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے گھروں کو چھوٹے معاشی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہاں سلائی مشینوں کی آواز، کڑھائی کے رنگین دھاگے، دستکاری کے نمونے اور روایتی کھانوں کی خوشبو صرف ہنر کی عکاسی نہیں کرتے، بلکہ بقا، خودمختاری اور امید کی ایک خاموش جنگ کی کہانی سناتے ہیں۔

شریں بتاتی ہیں کہ انہوں نے تین سال قبل اپنی خالہ سے سلائی اور کڑھائی سیکھنا شروع کی، جس کے بعد ایک غیر سرکاری ادارے سے تین ماہ کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔
"جب کام زیادہ ہو تو ہم بیس سے تیس ہزار روپے تک کما لیتے ہیں، لیکن بعض مہینوں میں سات سے دس ہزار روپے بھی مشکل سے حاصل ہوتے ہیں،” وہ کہتی ہیں۔
شریں کے مطابق سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ نہیں، بلکہ مناسب جگہ اور مواقع کی کمی ہے۔
"اگر ہمارے پاس جگہ اور سہولت ہو تو ہم مزید خواتین کو بھی یہ ہنر سکھا سکتے ہیں۔”
ان کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی سلائی مشین دوبارہ چلنے لگتی ہے، جیسے وقت انہیں رکنے کی اجازت نہیں دیتا۔
باورچی خانے سے معاشی جدوجہد تک
پشاور کی چالیس سالہ سپوگمئی کے لیے ان کا باورچی خانہ صرف کھانا پکانے کی جگہ نہیں، بلکہ روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔
گزشتہ چار برسوں سے وہ مختلف ہوٹلوں کے لیے روایتی افغان کھانا "کابلی پلاؤ” تیار کر رہی ہیں۔ ہوٹل مالکان انہیں ضروری سامان فراہم کرتے ہیں، جبکہ وہ گھر میں کھانا تیار کر کے روزانہ تقریباً آٹھ سو روپے کماتی ہیں۔
"یہ رقم بہت زیادہ نہیں، لیکن ہمارے گھر کے اخراجات میں مدد ضرور کرتی ہے”، وہ کہتی ہیں۔
تاہم وہ اعتراف کرتی ہیں کہ بعض اوقات زیادہ کام اور کم معاوضہ انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔
"کبھی کبھی لگتا ہے کہ محنت زیادہ ہے اور صلہ کم، لیکن پھر بچوں کا خیال آتا ہے تو کام جاری رکھنا پڑتا ہے۔”
ہنر ہے، مگر راستے محدود ہیں
غنچہ گزشتہ تین برسوں سے گھریلو سجاوٹ اور دستکاری کے کام سے وابستہ ہیں۔ ان کی تیار کردہ اشیاء مقامی سطح پر پسند کی جاتی ہیں، لیکن ان کے مطابق قانونی دستاویزات، سرمایہ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی نہ ہونے کے باعث وہ اپنے کاروبار کو وسعت نہیں دے سکتیں۔
"لوگ میرے کام کو پسند کرتے ہیں، لیکن میرے پاس اسے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں،” وہ کہتی ہیں۔
ان کے مطابق اگر انہیں سوشل میڈیا، آن لائن فروخت اور مارکیٹنگ کی تربیت مل جائے تو وہ اپنے کام کو مزید آگے بڑھا سکتی ہیں۔
بازار میں مانگ موجود ہے
پشاور کے بازاروں میں افغان خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کو خاصی پذیرائی حاصل ہے۔

مقامی دکاندار عبدالعزیز کے مطابق، ہاتھ سے بنی ہوئی افغان مصنوعات اپنی منفرد کاریگری اور مناسب قیمت کی وجہ سے صارفین میں مقبول ہیں۔
ہاتھ سے بنی ہوئی چیزوں کی اپنی ایک خوبصورتی ہوتی ہے، اسی لیے لوگ انہیں زیادہ پسند کرتے ہیں،” وہ کہتے ہیں۔
دوسری جانب دکاندار دانیال خان کے مطابق افغان خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی آن لائن مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
"”جب ہم ان کی مصنوعات سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں تو لوگ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں اور آرڈرز بھی دیتے ہیں، وہ بتاتے ہیں۔
غیر رسمی معیشت کی خاموش کارکن
معاشی ماہر لقمان جرار کے مطابق افغان مہاجر خواتین بنیادی طور پر غیر رسمی معیشت کا حصہ ہیں۔
ان کے مطابق قانونی دستاویزات کی کمی، کاروبار کی رجسٹریشن کا فقدان، ثقافتی رکاوٹیں، محدود تعلیم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک کم رسائی ان خواتین کی معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
"اگر ان خواتین کو مناسب تربیت، قانونی سہولت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو یہ نہ صرف اپنے خاندانوں کو سہارا دے سکتی ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں،” وہ کہتے ہیں۔
ان کے مطابق بنگلہ دیش اور چین جیسے ممالک میں خواتین کی ہنرمندی کو معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بنایا گیا، اور اسی طرح کے اقدامات یہاں بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
صرف ہنر نہیں، مواقع بھی ضروری ہیں
سماجی کارکن فوزیہ بی بی کے مطابق افغان مہاجر خواتین کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔
"بہت سی خواتین گھر سے باہر کام نہیں کر سکتیں، اس لیے ضروری ہے کہ روزگار کے مواقع ان کے گھروں اور محلوں تک پہنچائے جائیں،” وہ کہتی ہیں۔
ان کے مطابق صرف ہنر سکھانا کافی نہیں، بلکہ کاروبار چلانے، مارکیٹنگ، مالیاتی انتظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کی تربیت بھی ضروری ہے۔

ہنر سے خودمختاری تک
افغان خواتین کے ساتھ کام کرنے والی تنظیم ایس آر ایس پی کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً نوے افغان خواتین کو مختلف پیشہ ورانہ ہنر سکھائے گئے ہیں، جن میں سے کئی خواتین اب ماہانہ تیس ہزار روپے تک کما رہی ہیں۔
تنظیم کی نمائندہ محمود مطابق، ہم مختلف علاقوں میں جا کر ضرورت مند افغان خواتین کو سلائی، کڑھائی، ٹیلرنگ، بیوٹیشن اور دیگر پیشہ ورانہ ہنر سکھا رہے ہیں۔ ہمارا مقصد انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے، اور مستقبل میں بھی افغان خواتین کے لیے مزید تربیتی اور ترقیاتی منصوبے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
قانونی شناخت: سب سے بڑی رکاوٹ
پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ملک صدام حسین کے مطابق معاشی نظام میں مکمل شمولیت کے لیے قانونی شناختی دستاویزات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
"کاروبار کی رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹ کھلوانے اور مالیاتی نظام تک رسائی کے لیے قانونی دستاویزات ناگزیر ہیں،” وہ کہتے ہیں۔
ان کے مطابق قانونی شناخت سے محروم افغان شہری رسمی معیشت میں شامل نہیں ہو پاتے، جس کے باعث ان کے معاشی مواقع محدود رہ جاتے ہیں۔
ایک موقع کی تلاش سے ایک نئی شروعات تک
تمام تر مشکلات، غیر یقینی صورتحال اور محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجر خواتین کی جدوجہد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حوصلہ، ہنر اور عزم سرحدوں اور حالات کے محتاج نہیں ہوتے۔ پشاور کے چھوٹے گھروں میں سلائی مشینوں کی آواز، روایتی کھانوں کی خوشبو اور ہاتھوں سے تیار کی جانے والی مصنوعات دراصل ان خواتین کی خودمختاری اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہیں۔
شریں اپنی سلائی مشین بند کرتے ہوئے مسکراتی ہیں اور کہتی ہیں:
"ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کا مستقبل بنانے کا موقع مل جائے۔”
ماہرین کے مطابق، اگر افغان مہاجر خواتین کو قانونی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت، مالیاتی سہولیات اور منڈی تک رسائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی تربیت اور معاونت کے مثبت نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مناسب مواقع ملنے پر یہ خواتین اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
شاید یہی ان خواتین کی جدوجہد کا سب سے اہم پیغام ہے: محدود وسائل کے باوجود، اگر ہنر کو مواقع اور حوصلے کو سہارا مل جائے، تو خاموش کوششیں بھی معاشی خودمختاری، استحکام اور امید کی ایک مضبوط داستان میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔



