ٹاؤن شپ کے قریب 220 کنال موروثی اراضی پر مبینہ قبضے کی کوشش، دمغار سادات خاندان کا تحفظ اور حدبندی کا مطالبہ

سوات: تحصیل کبل کے علاقے دمغار کے سادات خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹاؤن شپ کی پہاڑی کے قریب ان کی 220 کنال موروثی اراضی پر مبینہ طور پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے خلاف انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، اراضی کا ریکارڈ چیک کرنے، قانونی حدبندی اور مارکنگ کا عمل مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ادریس علی شاہ نے اپنے خاندان کے افراد ڈاکٹر امجد علی شاہ، اکبر علی شاہ، واجد علی شاہ اور دیگر کے ہمراہ کہا کہ فیاض دمغار مبینہ طور پر مسلح افراد کے ہمراہ متعدد مرتبہ ان کی زمین پر قبضے کی کوشش کر چکے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2020ء میں بھی مسلح افراد کے ذریعے اراضی پر قبضے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے انتظامیہ سے رجوع کیا۔ ان کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کو درخواست دی گئی، جس پر تحصیلدار کو اراضی کی حدبندی اور مارکنگ مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، تاہم مارکنگ کے دوران بھی مبینہ طور پر ان کے گروپ کی جانب سے حملہ کیا گیا۔
ڈاکٹر ادریس علی شاہ نے کہا کہ ان کا خاندان دمغار میں تقریباً 150 سال سے آباد ہے، جبکہ ان کے دادا نے 1948ء کی کشمیر جنگ میں پاکستان کے لیے شہادت حاصل کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹاؤن شپ کے پہاڑ پر پہلے ان کا پورا گاؤں آباد تھا اور 1990ء میں خاندان نے 235 کنال اراضی ٹاؤن شپ کو فروخت کی تھی، جس کا ریکارڈ محکمہ مال اور پٹوار میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1985ء کی پٹوار کے دوران بھی اس اراضی پر کسی جانب سے اعتراض نہیں کیا گیا تھا اور زمین کا ریکارڈ تاحال ان کے نام موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا تنازع دمغار کے عام لوگوں سے نہیں بلکہ فیاض خان دمغار سے ہے اور وہ کسی بھی وقت قانونی طریقہ کار کے تحت پٹوار اور حدبندی کے لیے تیار ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر ادریس علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ فیاض خان دمغار کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں اور وہ ان مقدمات میں جیل بھی جا چکے ہیں۔
متاثرہ خاندان کے افراد نے کہا کہ وہ قانون پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی قسم کے تصادم کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر اراضی کا ریکارڈ چیک، قانونی حدبندی اور مارکنگ مکمل کی جائے جبکہ خاندان کو مبینہ قبضے کی کوششوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
(نوٹ: خبر میں شامل الزامات متاثرہ خاندان کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ دوسرے فریق کا مؤقف شامل نہیں ہے۔)



