کالام کے مشران کے تحفظات، اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مؤقف سامنے آگیا

سوات: کالام کے مشران کی جانب سے اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نوٹسز پر تحفظات کے اظہار کے بعد اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ سیاحتی علاقوں میں کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی یا جائز کاروباری مفادات کو متاثر کرنا نہیں بلکہ منظم سیاحت، سیاحوں کے تحفظ، بہتر سہولیات اور قدرتی حسن کا تحفظ ہے۔
ترجمان اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سعید الرحمان کے مطابق صوبائی حکومت کی گڈ گورننس پالیسی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بالائی سوات میں سیاحتی مقامات کی بہتر منصوبہ بندی اور سروس ڈیلیوری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں سمیت حساس علاقوں میں نئی تعمیرات پر ماسٹر پلان کی تکمیل تک حکومتی احکامات کے تحت پابندی عائد ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انسانی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول اور سیاحتی مقامات کو غیر منظم تعمیرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
سعید الرحمان کا کہنا تھا کہ مقامی مشران نے معاملے پر بات چیت کے لیے اسسٹنٹ کمشنر بحرین کی سربراہی میں جرگہ بھی منعقد کیا تھا، جس میں دو ہفتے کا وقت لیا گیا۔ جرگے کے بعد متعدد مسائل کے حل کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور متعلقہ حکام باہمی مشاورت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مہوڈنڈ تک سڑک کی تعمیر پر صوبائی حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے خطیر رقم خرچ کی ہے، تاہم ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ وادی کے قدرتی حسن اور ماحول کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ بے ہنگم تعمیرات اور دریاؤں کے قدرتی راستوں میں مداخلت سے مستقبل میں سیاحت اور مقامی معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی مقامی آبادی کے جائز حقوق اور مفادات کا احترام کرتے ہوئے قانون و قواعد کے مطابق سیاحتی علاقوں کی ترقی چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مقامی لوگوں، کاروباری طبقے اور عمائدین کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
سعید الرحمان نے کہا کہ حکومتی اقدامات کا مقصد ایسا سیاحتی نظام تشکیل دینا ہے جہاں مقامی لوگوں کے لیے کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں، سیاحوں کو محفوظ و معیاری سہولیات میسر ہوں اور سوات کا قدرتی حسن آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، تاہم تمام معاملات کو افہام و تفہیم، مذاکرات اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔



