مردان میں سکھ جوڑے کے قتل کے تمام محرکات بے نقاب کیے جائیں، اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے: سردار رمیش کمار

مردان: پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش کمار نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مردان میں سکھ جوڑے کے بہیمانہ قتل کے تمام محرکات کو بے نقاب کیا جائے اور صوبے بھر میں اقلیتی برادریوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
وہ مردان پریس کلب میں اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سریش کمار اور مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر سید عنایت شاہ باچا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سے قبل انہوں نے ڈی آئی جی مردان قاسم علی خان اور ڈی پی او مردان مسعود احمد سے ملاقات کی اور سکھ جوڑے کے قتل کیس کی تفتیش اور پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے گوردوارہ میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں بھی شرکت کی اور مقتولین کی بیٹی سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت کیا۔
سردار رمیش کمار نے کہا کہ مردان کے بابو محلہ میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو نقصان پہنچایا بلکہ عالمی میڈیا میں بھی اسے نمایاں کوریج ملی، جس سے دنیا بھر میں سکھ برادری میں تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی اور ڈی پی او مردان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گرفتار ملزم کے خلاف میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور اسے قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔ تاہم اس واقعے کو محض ایک فرد کا ذاتی فعل قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے تمام پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
صوبائی وزیر نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس اپنے اہلکاروں کی ذہنی حالت اور رویوں کا بھی جائزہ لے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے عناصر کو اقلیتی عبادت گاہوں سے دور رکھا جائے اور اگر کوئی پولیس اہلکار ایسے نظریات کا حامل پایا جائے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مقتول سکھ جوڑے کے لواحقین اور مقدمے کے اندراج میں کردار ادا کرنے والے افراد کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
سردار رمیش کمار نے مردان کی سکھ برادری کے صبر و تحمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ شدید غم کے باوجود برادری نے احتجاج اور تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں اقلیتوں پر حملہ صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے تشخص کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے اور تمام شہریوں، بالخصوص اقلیتوں، کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرنا حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔



