وفاقی اور خیبرپختونخوا بجٹ عوامی مسائل کا حل نہیں، دونوں بجٹ خسارے اور غیر حقیقی تخمینوں پر مبنی ہیں، سکندر حیات شیرپاؤ

پشاور (عارف احمد): قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ نے وفاقی اور خیبرپختونخوا کے بجٹ کو عوامی توقعات کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں بجٹ خسارے، غیر حقیقی مالی اہداف اور کمزور معاشی پالیسیوں کا عکاس ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا 18 ٹریلین روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس میں تقریباً نصف رقم قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوگی۔ ان کے مطابق 8 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں مختص کیے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ صرف ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے، جو ملکی ترقی کے لیے ناکافی ہے۔

سکندر حیات شیرپاؤ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں 15 ٹریلین روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے جو غیر حقیقی ہے، کیونکہ موجودہ کاروباری شعبے، سرمایہ کاروں اور عوام میں مزید ٹیکس ادا کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بیس میں توسیع اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے ہی محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے زراعت کے شعبے کو نظر انداز کرنے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسان اپنی پیداواری لاگت تک پوری نہیں کر پا رہے جبکہ 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سستی بجلی اور کم لاگت خام مال کے بغیر پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔

صوبائی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ نہ صرف خسارے کا شکار ہے بلکہ وژن سے بھی عاری ہے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال میں صوبے کو 151 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے جبکہ وفاقی قابل تقسیم پول سے 90 ارب روپے کم ملنے اور دیگر وصولیوں میں کمی کے باعث مجموعی طور پر تقریباً 180 ارب روپے کے شارٹ فال کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو 200 ارب روپے سے زائد مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور موجودہ ترقیاتی بجٹ سے حقیقی ترقیاتی عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا بلکہ آئندہ بجٹ پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

سکندر حیات شیرپاؤ نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے اور انہیں کسی صورت پیچھے دھکیلنے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے وفاقی ایکسائز ڈیوٹی، گیس اور بجلی کی مد میں خیبرپختونخوا کے جائز حصے کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی مقاصد کے بجائے عوامی حقوق، امن و امان، وسائل کے مؤثر استعمال، انسانی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دے تاکہ صوبہ معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

Show More
Back to top button