کوکارئی گرلز ہائر سیکنڈری سکول کا معاملہ جرگے کے ذریعے حل، متاثرہ ٹیچر نے درگزر کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کردیا

سوات : سوات کے علاقے کوکارئی میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال علاقہ عمائدین، پولیس اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے نمائندگان کی کوششوں سے جرگے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرلی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سکول میں دو طالبات کے درمیان معمولی بات پر جھگڑا ہوا، جس دوران ایک طالبہ کی عینک ٹوٹ گئی۔ متاثرہ طالبہ نے معاملہ اپنی خاتون ٹیچر کے نوٹس میں لایا، جس پر ٹیچر نے طالبہ کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور آئندہ لڑائی جھگڑے سے گریز کی ہدایت کی۔
بعد ازاں طالبہ کی والدہ کو سکول بلایا گیا، جہاں مبینہ طور پر خاتون ٹیچر کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد سکول کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ طالبات نے احتجاج کیا جبکہ خواتین اساتذہ نے بھی تدریسی سرگرمیوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے علاقہ عمائدین، مقامی پولیس، سکول انتظامیہ اور سماجی نمائندگان نے مداخلت کی اور فریقین کے درمیان جرگہ منعقد کیا۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ضلع سوات کے صدر لعل شیر خان اور ساؤتھ کوریا کے صدر فضل ہادی سمیت دیگر نمائندگان نے متاثرہ ٹیچر کی دادرسی اور معاملے کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کیا۔ جرگے میں دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد باہمی مشاورت سے معاملہ حل کرلیا گیا۔
اس موقع پر متاثرہ خاتون ٹیچر اور سکول پرنسپل نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقِ دوم کو معاف کردیا۔ خاتون ٹیچر نے کہا کہ "یہ ہمارے بچے ہیں، یہ ہمارا معاشرہ ہے اور اسے بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔”
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں اساتذہ کے احترام، نظم و ضبط اور باہمی احترام کا درس دیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
جرگہ مشران اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے نمائندگان نے خاتون ٹیچر کے تحمل اور درگزر کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہونا معاشرے کے لیے مثبت مثال ہے۔
جرگے کے بعد سکول میں معمول کی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جبکہ عمائدین نے اساتذہ کے احترام، طالبات کے تحفظ اور پرامن تعلیمی ماحول برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔



