کوئلہ کان حادثات: شانگلہ کے مزدوروں کے لواحقین کا حفاظتی اقدامات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

سوات: کوئٹہ میں کوئلے کی کان کے حالیہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے لواحقین اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے، حادثات کی شفاف تحقیقات اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
اس حوالے سے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور مزدور رہنماؤں نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کانوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث آئے روز حادثات پیش آ رہے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافی افسرالملک افغان نے دعویٰ کیا کہ 1998ء سے 2026ء تک کان کنی کے مختلف حادثات میں 525 مزدور جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم ان کے بقول کسی مائنز کمپنی، ٹھیکیدار یا لیز ہولڈر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں پیش آنے والے کان حادثے میں 34 مزدور جاں بحق ہوئے، جبکہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو دی جانے والی امدادی رقم اور حادثے کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی وضاحت ضروری ہے۔
افسرالملک افغان نے مطالبہ کیا کہ کان کنی کے حادثات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
اس موقع پر پاکستان مائنز ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نوراللہ، نیشنل لیبر فیڈریشن خیبرپختونخوا کے صدر برکت علی بابا اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ وہ کان کنی کے خلاف نہیں بلکہ محفوظ ماحول میں کان کنی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی نظام وضع کیا جائے۔



