ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ اور انکم ٹیکس مسترد، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے خلاف عوامی تحریک کا اعلان

سوات (عارف احمد) ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ اور انکم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں، چیمبر آف کامرس اور سماجی تنظیموں نے متحد ہو کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف عوامی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کے روز نشاط چوک مینگورہ میں احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
مینگورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹریڈرز فیڈریشن اور سوات چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام منعقدہ گرینڈ جرگے میں اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر عباد، تاجر رہنما عبدالرحیم، سابق میئر مردان حمایت اللہ مایار، اسحاق زاہد، واجد علی خان، فضل رحمان نونو، شاہد علی خان، ڈاکٹر محبوب علی، محمد امین، انعام خان، لعلی شاہ، خالد محمود گجر، محمد اعجاز خان، حبیب علی شاہ، ملک اکرم خان، شیر شاہ خان، نور محمد خان اور یوسف علی خان سمیت مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے خطاب کیا۔
جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، تاجر برادری، سماجی تنظیموں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں اضافے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ علاقے کے عوام، تاجروں اور صنعت کاروں پر مزید مالی بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی آئینی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور وفاقی حکومت ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو اس کے خلاف بھرپور عوامی تحریک چلائی جائے گی۔
تاجر برادری کے صدر عبدالرحیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرتاج عزیز کمیشن دراصل فاٹا کے لیے قائم کیا گیا تھا، تاہم صوبائی اسمبلی کے اراکین کی غفلت اور نااہلی کے باعث پاٹا کو بھی اس میں شامل کیا گیا، جس سے علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام دہشت گردی، فوجی آپریشنز، سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات سے شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہیں، اس لیے مزید ٹیکسوں کا نفاذ ناقابل برداشت ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کے روز نشاط چوک مینگورہ میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد تحریک کو تحصیل سطح اور ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکس اور انکم ٹیکس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور علاقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو عوام کے حقوق کے لیے اسمبلیوں سے استعفے دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔



