سوات: تاریخی جرگہ، دو خاندانوں میں صلح، سوات اور شانگلہ کے درمیان تلخیاں ختم

سوات: قامی تڑون جرگہ بابوزئی کی کوششوں سے شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ اور فضل خالق خان کے خاندانوں کے درمیان جاری تنازع ختم کر دیا گیا، جبکہ سوات اور شانگلہ کے عوام کے درمیان پیدا ہونے والی تلخیاں بھی کم ہونے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
ودودیہ ہال میں منعقدہ گرینڈ جرگے میں دونوں خاندانوں کے افراد نے شرکت کی، جہاں فریقین کو بغل گیر کرایا گیا اور باہمی اختلافات ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ دونوں خاندانوں نے قرآن پاک پر حلف اٹھاتے ہوئے آئندہ امن، بھائی چارے اور احترام کے ساتھ رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جرگے میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، اراکین اسمبلی، وکلا، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور سوات، شانگلہ و بونیر سے تعلق رکھنے والے مشران نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ جرگہ نظام پشتون معاشرے میں تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ رہا ہے اور ایسے اقدامات سے نہ صرف خاندانوں بلکہ علاقوں کے درمیان بھی اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔



