باجوڑ: مولانا خانزیب شہید کی پہلی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی، امن کی بحالی اور ٹیکس فیصلے کی واپسی کا مطالبہ

باجوڑ : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما، سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی شخصیت مولانا خانزیب شہید کی پہلی برسی باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ تقریب سے قبل مرحوم کے ایصالِ ثواب اور بلندیٔ درجات کے لیے قرآن خوانی اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا۔
برسی کی تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین، صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، رکن صوبائی اسمبلی نثار باز، سابق رکن صوبائی اسمبلی حاجی بہادر خان، اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن شیخ جہانزادہ، ضلعی صدر گل افضل خان، جنرل سیکرٹری شاہ نصیر خان سمیت پارٹی رہنماؤں، کارکنوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے باجوڑ سے وزیرستان، سوات اور صوبے کے دیگر علاقوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک مرتبہ پھر بدامنی سر اٹھا رہی ہے، عوام کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے اور پختون خطے نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس کے باوجود حالات میں بہتری نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق، امن اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
رکن صوبائی اسمبلی نثار باز نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں پختون شہید ہوئے جبکہ قبائلی عمائدین، علماء، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا خانزیب شہید کی قربانی اسی جدوجہد کا تسلسل ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
تقریب کے دوران مولانا خانزیب شہید کی تصنیف "متبادل بیانیہ” کی تقریبِ رونمائی بھی منعقد ہوئی، جبکہ مقررین نے ان کی علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن اور شہید کے بڑے بھائی شیخ جہانزادہ نے مشترکہ اعلامیہ پیش کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مولانا خانزیب قومی اثاثہ اور ملی شہید ہیں، جن کے علمی، ادبی، سیاسی اور قومی فکر کو نئی نسل تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں اجتماعی شعور، امن، بھائی چارہ اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
اعلامیے میں باجوڑ سے وزیرستان تک اور پورے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ امن کی بحالی کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کی جائیں اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور افغانستان باہمی مسائل اور مہاجرین کے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کریں، تاریخی سرحدی راستوں کو تجارت اور عوامی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولا جائے، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ساتھ پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں، قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے، لاپتہ افراد کے مسائل حل کیے جائیں، باجوڑ تا وزیرستان انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے، معدنی وسائل کے سائنسی سروے کے بعد مقامی جرگوں کی مشاورت سے انہیں بروئے کار لایا جائے، دہشت گردی سے متاثرہ بازاروں اور گھروں کے معاوضے فوری ادا کیے جائیں اور بلاک شناختی کارڈ بحال کیے جائیں۔
اعلامیے میں مولانا خانزیب شہید کے قتل کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کے اعلان کردہ تحقیقاتی کمیشن کو فوری فعال بنانے، پی کے-22 کے منتخب نمائندے کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے اور پورے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
برسی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور باجوڑ پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔



