سوات: لاپتہ کمسن بچی ریشما کیس میں پولیس کو تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت، 21 جولائی تک رپورٹ طلب

عارف احمد
سوات: پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے لاپتہ کمسن بچی ریشما کے کیس کی سماعت کے دوران پولیس حکام کو تحقیقات تیز کرنے اور 21 جولائی 2026 تک پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
عدالتی کارروائی کے دوران ایس ایچ او شوکت علی، ایس پی انویسٹیگیشن، تفتیشی افسر عبدالودود اور ڈی ایس پی لیگل نعیم شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے سابقہ عدالتی ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کیس کی حساس نوعیت پر زور دیا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگرچہ پولیس کی جانب سے تحقیقات کی گئی ہیں، تاہم اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی عدالت کے سامنے ایسا کوئی تحریری ریکارڈ پیش کیا گیا جس سے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت ظاہر ہو سکے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کی تقریباً 10 سے 11 سالہ کمسن بیٹی گزشتہ تین برس سے لاپتہ ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ پس منظر میں رشتہ داروں کے درمیان نجی تنازع موجود ہے، تاہم بنیادی حقیقت یہ ہے کہ کمسن بچی تاحال لاپتہ ہے، جو ایک نہایت سنگین معاملہ ہے اور اس کی ہر پہلو سے مؤثر تحقیقات کی جانی چاہیے۔
عدالت نے ایس پی انویسٹیگیشن کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر تفتیشی عمل کی نگرانی کریں اور کسی بھی قسم کے خوف یا دباؤ کے بغیر کیس کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں تاکہ لاپتہ بچی کا سراغ لگایا جا سکے۔
پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے ایس پی انویسٹیگیشن اور موجودہ تفتیشی افسر کو 21 جولائی 2026 کو پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرانے اور اسی روز ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا بھی حکم دیا۔



