فاٹا و پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے خلاف پیپلز پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس، مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

چکدرہ: پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام سابق فاٹا و پاٹا میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف چکدرہ کے مقام فشنگ ہٹس میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں، وکلاء، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر سید محمد علی شاہ باچا نے کی، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی مہمانِ خصوصی تھے۔
کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر سابق فاٹا و پاٹا میں ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ علاقے کے زمینی حقائق اور عوام کی معاشی مشکلات سے مطابقت نہیں رکھتا، لہٰذا وفاقی حکومت فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے واپس لے۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے سید محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ سابق فاٹا و پاٹا کے عوام دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی اور معاشی بحران کے باعث پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا کسی صورت انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں، تاجروں اور صنعتکاروں کے مستقبل سے وابستہ ہے، جس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس مسئلے پر ہر آئینی، جمہوری اور پارلیمانی فورم پر بھرپور آواز اٹھاتی رہے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ شرکاء کے متفقہ مؤقف اور سفارشات وفاقی حکومت تک پہنچائی جائیں گی اور ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے پر نظرثانی اور اس کی واپسی کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کیا جائے گا۔
کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ شرکاء نے فیصلہ کیا کہ آئندہ چند روز میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی پر مشتمل ایک مشترکہ وفد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کرے گا، جس کے بعد صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم پاکستان سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ سابق فاٹا و پاٹا میں ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر متفقہ مؤقف پیش کرتے ہوئے عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکے۔



