فضل حکیم اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہوا کیا تھا؟حقائق سامنےآگئے

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ۔09ستمبر2017ء )سوات پولیس کی تشدد کے شکار نوجوان نے انکوائری کمیٹی کے سامنے انسانیت سوز حقائق بیان کردئیے، ڈی پی او شانگلہ راحت اللہ خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرکے پولیس اہلکاروں کو قصوروار ٹھہرادیا، واقعات کے مطابق سات ستمبر کو مینگورہ کے رہائشی رکشہ ڈرائیور آفتاب اللہ ولد بخت زمان کی گرفتاری کے تنازعے پر ڈیڈک چیئر مین ایم پی اے فضل حکیم کا مینگورہ پولیس اسٹیشن میں اہلکاروں کے ساتھ تکراراور ہاتھا پائی کے واقعے کے بعدمتاثرہ خاندان کی شکایت پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان نے ڈی پی او شانگلہ کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے دو روز کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اختر علی نامی پولیس اہلکار نے جو سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا بغیر ڈیوٹی کے مذکورہ نوجوان کو تلاشی لی اور بعدازاں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد دیگر ساتھیوں کی مدد سے پولیس اسٹیشن مینگورہ لاکر حوالات میں تشدد کا نشانہ بنانے کے دوران اسے برہنہ کرکے اس کی وڈیو بھی بنائی، واقعہ کی اطلاع ملنے پر جب ایم پی اے فضل حکیم متاثرہ نوجوان کی دادرسی کے لئے مینگورہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو مذکورہ اہلکار نے ایم پی اے کے ساتھ بھی بدتمیزی شروع کردی جس پر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی،وقوعہ کے بعد ایم پی اے نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جس پر مذکورہ کمیٹی بنائی گئی اور اس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مذکورہ اہلکار اختر علی کو قصور وار ٹھہرادیا ہے ۔واضح رہے کہ سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکاروں کو کسی کی تلاشی لینے کی اجازت نہیں جس پر متاثرہ خاندان نے واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں