حبیب بینک کے ملازم کی مبینہ برطرفی، محمد احمد کا اسٹیٹ بینک سے تحقیقات کا مطالبہ

سوات: حبیب بینک لمیٹڈ سیدو شریف برانچ میں بزنس سیلز ایگزیکٹیو کے طور پر خدمات انجام دینے والے محمد احمد نے اپنی ملازمت سے مبینہ برطرفی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے معاملے کا جائزہ لینے اور تحقیقات کی اپیل کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں محمد احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مبینہ طور پر قانونی اور ادارہ جاتی کارروائی مکمل کیے بغیر ملازمت سے الگ کیا گیا، جس کے باعث انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق انہوں نے بینک انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ اہداف پورے کیے تھے، تاہم اس کے باوجود ان کی ملازمت ختم کردی گئی۔

محمد احمد نے بعض بینک افسران کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ان افسران کے اقدامات یا فیصلوں کا ان کی ملازمت ختم ہونے سے تعلق ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اپیل کی کہ معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے یہ معلوم کیا جائے کہ ان کی ملازمت ختم کرنے کے عمل میں متعلقہ قانونی اور ادارہ جاتی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔

محمد احمد نے کہا کہ وہ اپنے معاملے میں انصاف اور حقائق کے تعین کے خواہاں ہیں اور متعلقہ حکام سے شفاف طریقے سے معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس معاملے پر حبیب بینک لمیٹڈ اور خبر میں جن بینک افسران کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ ان کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button