کورونا وائرس ایک آزمائش

تحریر: اسلم گل

( خبر جاری ہے )

انسانی زندگی میں کبھی کبھار مشکالات آتے ہیں ۔ ان مشکلات کا نام آزمائش ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ معلوم کر تاہے کہ کو ن آزمائش کی اس گھڑی میں کس حد تک ثابت قدم رہتاہے۔ عام انسانوں کے علاوہ اللہ رب العزت اپنے برگزیدہ بندوں کو بھی آزماتا ہے۔ حضرت آدم ؑ سے لیکر آخری نبی حضرت محمدﷺ تک تمام انبیاء کرام کو آزمایا گیا لیکن تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے آزمائش اور مصیبت کی گھڑی میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیااورثابت قدم رہیں، اس لئے کامیاب ہوئے۔چونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ستر مائوں سے بھی زیادہ مہربان ہے، اسلئے بعض اوقات عام انسانوں اور ظالم حکمرانوںکو بھی آزمائش میں ڈالتا ہے، تاکہ وہ عبرت حاصل کرلے کہ باد شاہی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور وہی ذات مسائل کے حل کرنے والا اور مشکلات سے نجات دینے والاہے۔ بجائے اس کے کہ ہم آزمائش کی گھڑی میں گھبرائے، ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، صبر سے کام لیتے ہوے اپنی زبان کو قابو میں رکھیں، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کا مددگار ہوتاہے، آزمائشوں کے خاتمے کیلے کثرت سے ذکرو اذکار کا اہتمام کریں۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے،جس کاترجمہ ہے۔’’ اور ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصانوں سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے اور خوش خبری دیں صبر کرنے والوں کو کہ جب پہنچے ان کو مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانیوالے ہیں‘‘{سورۃالبقرہ آ یت نمبر 153 تا آیت نمبر156

اس وقت پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک آزمائش میں ڈالا ہوا ہے اور اس کا نام ہے کورونا وائرس۔کورونا نے پوری دنیا میں خون کی ہولی کھیلناشروع کیا ہے، جو کہ چائنا کے صوبے ووھان سے شروع ہوا تھا اور اس نے پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لیاہواہے ۔ تمام دنیا کے ماہرین نے دن رات ایک کر کے کروناسے خلاصی کی سعی ناتمام میںلگے ہوئے ہیں ، مگر تا حا ل کوئی بھی ماہر سے ماہر سائنسدان کسی حتمی نتیجے پرنہیں پہنچ سکا ہے،۔ ترقی پزیر ممالک تو کیا ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے عوام کو بچانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔پوری دنیا حیران اور پریشان ہے، ہر ملک نے اپنے عوام کو لاک ڈائون پر مجبور کیا ہے مگر کورونا وائرس ہے کہ جس طرف بھی چاہے جاسکتی ہے اور وہاں پر موت کا بازار گرم کر دیتی ہے۔ ہر سو غم و پریشانی کی فضا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ہسپتالوں میں دوسرے امراض کے علاج معالجے پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے ، کہ کہیں یہ قاتل وائرس مزید نہ پھیل جائے، جس کی وجہ سے دیگر امراض میں مبتلا لوگوں کو مشکالات کا سامنا ہے، مثلا تھیلی سیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو خون ملنا مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ بلڈ ڈونرز کو باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جو کہ ان کی زندگی کی امید ہے۔لاک ڈائون کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے علاوہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی بے روزگاری نے اپنے پنجے گاڑ دئے ہیں۔ صاحب حیثیت لوگ تو گھروں میں بیٹھ کر اشیاء خورونوش کی فکر سے کسی حد تک آزاد ہیں مگر وہ لوگ جو یومیہ اجرت پر کام کر کے اپنے اور اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں،انکی پریشانی میں روز اضافہ ہوتا جارہاہے۔ہر بندہ اپنے اور اپنے خاندان کی فکر میں لگاہواہے۔ اسی طرح تعلیمی نظام بھی کافی حد متاثر ہوا ہے، والدین کے پریشانی میں ہر لمحہ اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ان کے بچوں کامستقبل تاریک ہونے کاخدشہ ہے۔

اگر ہم قرآن کریم کے { سورۃ الانبیا آیت نمبر 86 لا الہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظٰلیمن } کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت یونس ؑ نے تین تاریکیوں میں ، یعنی ایک اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا ، دوسرا دریا کے پانی کا اور تیسر ا ا ندھیرا رات کا ، میں اللہ رب العزت کو پکارا تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کی اور آپ کو اس گھٹن سے نجات دی۔ جب حضرت یونسؑ بستی چھوڑ کر نکل گئے توآپ کی قوم کو فکرلاحق ہوئی کہ اب عذاب آہی جائیگا، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے بعض آثار کا انہوں نے مشاہدہ بھی کیا تو انھوں نے اپنے شرک و کفر سے توبہ کیا اور بستی کے سب مرد اور عورتیں اور بچے جنگل کی طرف نکل گئے اور اپنے مویشیوں کوبھی ساتھ لے گئے اور بچوں کو ان کی مائوں سے الگ کردیا اور سب نے گریہ وزاری کرنا شروع کیااورجانوروں کے بچوں نے جن کو ان کی مائوں سے الگ کر دیا گیا تھا الگ فریادوزاری کی، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آگئی ان کی سچی توبہ کو اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا اور عذاب ان سے ہٹادیا۔

لہذا اگر ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی سچے دل سے طلب کرے ، پانچوں وقت نماز کی پاپندی کریں، قرآن کریم کی تلاوت کو اپنا معمول بنائے، قرآن مجید کے احکامات پر عمل کریںاوراپنی زندگی کو ہمیشہ کیلے اسلامی قوانین کے سانچے میں ڈالے ۔ اسی طرح اتفاق واتحاد سے زندگی گزاریں، ایک دوسرے کا خیال رکھیں اورجسم کی صفائی کے ساتھ ساتھ گھر، محلے ،علاقے اور ملک کی صفائی کو عادت بنائے تو یقینا ہمیں اس موجودہ کورونا وائرس اور آئندہ آنے والی بیماریوں اور وبائوں سے نجات مل سکتی ہے۔

Comments
Loading...