میاں صاحب کیلئے اگلے دو اہم پڑاؤ(اسد حسن)

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے نتیجےمیں وزارت عظمی سے استعفی دینے کے بعد جو سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہے، اسے میاں صاحب کی ذات، ان کے کردار کی تاریخ میں حتمی چھاپ، ان کے خاندان کی سیاست کے مستقبل اور ان کے مالی اور کاروباری اثاثوں کے لیے غیر معمولی اہمیت ہے۔ اسلام آباد سے لاہور تک عوام کو متحرک کرنے میں اگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو مذکورہ تمام اہداف انتہائی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں اور اگر عوام کا سمندر سڑکوں پر امڈ آتا ہے تو عدالت کے فیصلے پر اگر براہ راست اثر نہیں بھی پڑتا تو بھی سیاسی طور پر کچھ رعائیتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم میاں صاحب کا پیغام اور لوگوں کی شرکت کا حجم بہت باریک بینی سے پڑھنا ہو گا.

اسلام آباد سے راولپنڈی تک کا کم و بیش 8 گھنٹوں کا سفر میاں صاحب، ان کے رفقاء کے لیے شاید ہی زیادہ حوصلہ افزا ہو لیکن رات گئے راولپنڈی میں ایک مناسب تعداد میں لوگوں کی موجودگی میں میاں صاحب نے حسب توقع جو پیغام باور کرایا ہے وہ یہ کہ انہوں نے کبھی قومی خزانے میں خیانت نہیں کی، ملکی ترقی ان کا اولین ایجنڈا رہی ہے اور عدالت نے اگر نکالا بھی ہے تو تکنیکی بنیادوں پر ۔لہذا اب وہ اپنے لیے وزارت عظمی کی بحالی نہیں، ملکی نظام میں عوام کی مدد سے تبدیلی چاہتے ہیں۔

سیاسی اعتبار سے بہت مناسب پیغام ہے اور کئی لوگوں کو اپیل بھی کر رہا ہے۔ جہلم میں بھی مختصر خطاب میں اسی پیغام کو دوہرایا ہے اور جہلم میں بھی عوام مناسب سی تعداد میں موجود تھے تاہم سڑکوں پر عوام کے سمندر جیسی اصطلاح ابھی تک کے سفر پر منطبق نہیں ہوتی۔ جمعرات کی رات جہلم کے نزدیک پڑاؤ ہے اور جمعے کا دن بہت اہم ہے۔ پیغام کے اعتبار سے بھی اور سیاسی مستقبل کے لیے بھی۔ اندازہ یہ ہے کہ گوجرانوالہ پہنچ کر میاں صاحب کے کارواں کو اچھا مومنٹم ملے گا جو ان کے آبائی اور سیاسی گڑھ لاہور جا کر انتہائی جاندار ہو جائے گا۔ ان کا لب و لہجہ لاہور جاتے جاتے سخت سے سخت تر ہو گا۔ لیکن حرکیات یہ بتاتی ہیں کہ سخت گیری مددگار نہیں ہو سکتی .غالب امکان ہے کہ لاہورمیں اس سفر کا اختتام ایک قومی مفاہمتی پیغام کے ساتھ ہو جس کو آپ ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کا نام دیں، ایک اور این آر او یا گرینڈ این آر او کا نام دیں۔ میاں صاحب یہ چاہیں گے کہ وہ اپنے متحرک کردار کے عوض مریم بی بی کے سیاسی کیرئیر اور مفاہمتی عمل کے تحت بیرون ملک جائیداد کے ایک بڑے حصے کو ملک میں واپس لانے کا عندیہ دیں۔ وہ بھی اس انداز میں کہ حب الوطنی کا جذبہ عیاں ہو نہ کہ پلی بارگین کا۔

غالب امکان ہے کہ جناب آصف زرداری کی قیادت والی پیپلز پارٹی ریاستی اداروں کو آن بورڈ رکھنے ، سیاسی عمل کو جاری رکھنے اور فطری طور پر اپنی اور پارٹی میں قریبی مصاحبین کو ممکنہ طور پر احتساب کی پکڑ سے بچانے کے لیے اس مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کریں۔ عمران خان کی قیادت والی تحریک انصاف سخت جز بز ہو گی، ہاں وہاں بھی جہانگیر ترین فیکٹر ایسے کسی مصالحتی عمل کی حمایت کرے گا۔ اس کے بدلے میں مصالحت کرانے والوں کو کیا ملے گا؟ اورمصالحت کرانے والے کون ہیں، آپ ان کو اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا کرتے ہیں۔ مصالحت کرانے والوں کو اس بندوبست سے کیا ملے گا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ آئندہ ایک دو عشروں کی مدت کے اندر نظام میں کوئی آئینی کردار دیکھتے ہوں؟ جن ایک دو شعبوں پر ’’ ڈی فیکٹو‘‘کنٹرول ہے، ان شعبوں کو آئینی اعتبار سے اپنے پاس رکھ سکتے ہوں؟۔ تاہم یہ سب اٹکل پچو تبھی کسی شکل میں ڈھلیں گے اگر میاں صاحب کم از کم تین سے پانچ لاکھ بندہ سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ورنہ دوسری صورت میں امکانات ان کی ذات، پارٹی اور خاندان کے لیے زیادہ امید افزا نہیں ہیں۔ اب تک کی ریلی میں ان کو سیاسی طور پر نقصان اس صورت میں پہنچ چکا ہے کہ وہ راولپنڈی سے جہلم تک جن جن قومی اور صوبائی کے حلقوں سے گزر کر آئے ہیں وہاں کے الیکٹیبلز بھلے اس وقت ان کے ساتھ ہیں یا کہیں اور کھڑے ہیں، وہ ان حلقوں میں عوام کی نبضوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے اور ان کے لیے آئندہ انتخابات میں نواز لیگ کے ٹکٹ میں وہ کشش نہ ہو جو 2013 میں تھی۔ 35 سال کے سیاسی کیرئیر اور شریف فیملی کی بزنس ایمپائر کی بقاء کے لیے اگلے دو پڑاؤ بہت اہم ہیں۔

زما  سوات ڈاٹ کام کا بلاگر کے متن سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
Main menu