ون وہیلینگ (میاں جمال ناصر)

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

ون وہیلینگ | میاں جمال ناصر

سڑکوں پر روزانہ رونما ہونے والے حادثات اکثر ہولناک منظر پیش کرتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 15 قیمتی جانیں ان حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق پپچھلے 10 سالوں میں 97993 ستانوے ہزار ،نو سو تریانوے حادثات رونما ہوئے جن کے نتیجے کے طور پر 51416 اکاون ہزار، چار سو سولہ افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ سال 2016 دوہزار سولہ میں، یعنی صرف پچھلے بارہ مہینوں میں 9100 حادثات میں 11544 گیارہ ہزار، پانچ سو چوالیس افراد زخمی جبکہ 4448 چار ہزار چار سو اڑتالیس افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کی ہیں۔ جو ون وہیلنگ ڈرائیونگ یعنی موٹر سائیکل کو ایک پہیہ پر چلانا، موٹر سائیکل ریس، تیز چلانے کے بے مقصد مقابلوں کی وجہ سے حادثات کا ہوجاتے ہیں۔ اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ واقعات زیادہ تر مخصوص اوقات میں رونما ہوتے ہیں، جیسے کہ یوم آزادی کا مو قع ہو یا عید کی رات، کسی کی شادی بیاہ ہو یا کوئی اور خوشی، آج کے نوجوان جو کہ کل کا پاکستان ہیں، اپنے پیاروں کے ہنستے مسکراتے چہروں کو آنسووں میں ڈبو دیتے ہیں۔
یہ نوجوان کیا یہ نہیں سوچتے کہ ان کے پیچھے ان کی ماں کا کیا بنے گا؟ جو صرف اولاد کےلئے جیتی ہے، اُن بہنوں کا کیا ہوگا جو بڑے لاڈ اور پیار سے بھائی جان کہ کر پکارتی ہے؟ اپنے اس باپ پر کیا گزری گی جو ساری زندگی اولاد کیلئے محنت مزدوری کرکے ان کی مستقبل کیلئے اپنا حال قربان کردیتا ہے؟ نہیں نا!
چونکہ یہ کھیل زندگی اور موت کے بیچ کھیلا جاتا ہےاسلئے یہ کھیل اس ملک کے قانون پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، ون ویلینگ کھیل نہیں، بلکہ موت کا دوسرا نام ہے، یہ کھیل کئی گھروں کو اجاڑنے کا ذمہ دار ہے، یہ کھیل موت کو دعوت دیتا ہے، اور موت کو دعوت دینا خودکشی کے مترادف ہے، اور اسلام کی رو سے خودکشی حرام ہے
یہ کھیل ویسے ہی نہیں کھیلا جاتا بلکہ اس کے پیچھے کئی کوتاہیاں کارفرما ہیں اگر وجوہات پر غور کیا جائے اور سوچا جائے تو والدین بھی برابر کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ بچپن سے ہی ان کی تربیت سے غفلت برتتے ہیں، موٹر سائیکل مہیا کرتے ہیں اور بغیر حساب کے جیب خرچ بھی دیتے ہیں دوسری طرف لائسنس بھی بااسانی مل جاتا ہے، ٹریفک پولیس بھی اس کی روک تھام کیلئے کچھ خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا رہی ، کیونکہ یہ مسلہ حقیقتاً قانون سازی کے بغیر قابو سے باہر ہے
ان بچوں کی اگر صحیح تربیت پر توجہ دی جائے تو کل یہ آپ کیلئے فخر کا سبب بن سکتے ہیں ۔ پڑھینگے، وکیل بن کر معصوموں کی مدد کر سکینگے، ڈاکٹرز بن کر قوم کی خدمت کرسکینگے، انجینئر اور سائنسدان بن کر اس ملک کا نام روشن کرینگے۔ ضرورت ہے تو صرف توجہ اور تربیت کی !
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
حکومت سے درخواست ہے کہ کم عمری کی ڈرائیونگ اور ون ویلینگ کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کرے۔ ٹریفک قوانین کے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرے۔ اس کے خلاف بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔
اور والدین کو مشورہ دیا جائے کہ بچوں کو گاڑی چلانے سے روکے۔ ان کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیں۔
کیونکہ آج کے بچے جو گاڑی کے ڈرائیور بننا چاہتے ہیں، کل یہ اس پیارے چمن کی ڈرائیونگ کر سکینگے
آج کے بچوں کو سنواروں، کل کا پاکستان سنور جائے گا

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں