صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے، شمشیر علی خان ایڈوکیٹ

صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کو قانون کا تجرہ گاہ بنانے سے باز رہے،صوبائی کابینہ نے وکلاء سے مشاورت کے بغیر اے ڈی آر کی توسیع قابل مذمت ہے، ان خیالات کا اظہار پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ /دارالقضاء سوات

سوات (زما سوات ڈاٹ کام)صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کو قانون کا تجرہ گاہ بنانے سے باز رہے،صوبائی کابینہ نے وکلاء سے مشاورت کے بغیر اے ڈی آر کی توسیع قابل مذمت ہے، ان خیالات کا اظہار پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ /دارالقضاء سوات بار ایسو سی ایشن سوات کے صدر شمشیر علی خان ایڈوکیٹ نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کیا، انہوں نے اس بات پر حیرت اور آفسوس کا اظہار کیا ہے کہ صوبے کے تمام وکلاء سی پی سی (ضابطہ دیونی) میں کی گئی ترامیم کے خلاف صرافہ احتجاج ہے اور پورے صوبے کے لوگ مصیبت اور مشکل میں مبتلاء ہیں اور اس طرح حکومت اور وکلاء کے مابین ترامیم کے حوالے سے کچھ حدتک اتفاق ہوا ہے اور جو کہ حکومت اس نسبت آرڈیننس جاری کرنے اور صوبائی اسمبلی سے ایکٹ منظور کرانے اور عارضی وقت کیلئے آرڈیننس جاری کرنے کے پابند ہیں،اس حوالے سے گذشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کنونشن میں متفقہ پر قرار داد منظور ہوا تھا کہ سی پی سی (ضابطہ دیوانی) وغیرہ میں کی گئی ترمیمات کو واپس لئے جائیں اور صوبائی حکومت آئندہ کیلئے جو قوانین لانا چاہتے ہیں، اُن قوانین کو وکلاء کے نمائندہ گان اور بار کونسل سے صلاح مشورہ کے بعد عمل میں لایا جائے لیکن حیرت کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت نے اچانک صوبائی کابینہ سے اے ڈی آر کے شکل میں نئی قوانین کے اجراء کی منظوری دیکر اسے آرڈیننس یا ایکٹ کے ذریعے نافذ کرنے کے درپے ہیں، جس سے پورے صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام شدید متاثر ہوں گے اور اس سے وکلاء برادری میں بھی اضطراب پیدا ہوگی، ایسے امتیازی قوانین سے بے چینی پھیلی گی اور انصاف کے حصول میں مشکلات پیدا ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے جرگہ سسٹم اور پاٹا ریگولیشن قوانین کے نفاذ کے دوران تلخ تجربہ دیکا ہے اور مذکورہ پاٹا ریگولیشن کو پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے امتیازی قرار دیکر اس کو منسوخ کرایاتھا، جس کا سہرا ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور وکلاء کے تاریخی جدو جہد اور قربانیوں سے پاٹا ریگولیشن ختم ہوچکا ہے، اب صوبائی حکومت نے ایک متنا زعہ قانون اے ڈی آر صوبائی کابینہ سے منظورکرایا جو کالی قوانین کا تسلسل ہے اگر اے ڈی آر قوانین اچھے ہیں تو فیڈرل حکومت اسے پورے ملک میں نافذ کریں، انہوں نے کہا کہ وکلاء اور عوام امتیازی قوانین کے خلاف جدوجہد کریں گے اور صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیں اور ایسے غیر منطقی قوانین کے نفاذ سے باز رہیں۔

( خبر جاری ہے )

Comments
Loading...