میڈیکل کے طالب علم واجد علی خان کے قتل کے خلاف احتجاج،حکومت کو دس دن کی ڈیڈلائن

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

سوات (زما سوات ڈاٹ کام:4دسمبر2017ء) پی ڈی اے یوتھ فورم اور قومی امن جرگہ کا پشاور میں قتل ہونے والے ڈاکٹر واجد علی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، مطالبات کے منظوری کے لئے دس دن کی ڈیڈ لائن اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی دھمکی دے دی گئی، احتجاجی مظاہرے کے بعد سوات پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی اے یوتھ فورم خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر حامد خان ، امن جرگہ سوات کے سربراہ سید انعام الرحمن ، رحمت شاہ سائل ، لیگل ایڈوائزر فضل اللہ ایڈوکیٹ اور ولی تحریک کے سربراہ فیاض خان ، پختونخوا میپ کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود خاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 4نومبر 2017کو سوات کے رہائشی ایم بی بی ایس فائنل ائیر کے طالب علم ڈاکٹر واجد علی کو نامعلوم ملزمان نے چند ہزار روپیہ کے موبائل چھیننے کے دوران مزاحمت پر قتل کردیا ایک ماہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر واجد علی کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے مظلوم خاندان کی داد رسی کی گئی ، ڈاکٹر واجد علی کے والد نے معذوری کے باوجود محنت مزدوری کرکے واجد علی کے کبیر میڈیکل کالج اور ہاسٹل کے اخراجات برداشت کئے لیکن ظالموں نے ان کے بیٹے کو قتل کردیا ، انہوں نے کہا کہ ہم مرکزی وصوبائی حکومت ، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، گورنر خیبر پختونخوا ظفر اقبال جھگڑا ، کورکمانڈر پشاور اور کمشنر پشاور سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر واجد علی خان کے قاتلوں کو گرفتار رکے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ان مطالبات کو دس روز کے اندر اندر تسلیم نہیں کیا گیاتوہم گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے اور اپنے مطالبات کی منظوری تک پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں