غیر ملکی فنڈنگ کیس، عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا

عمران خان نے بطور چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی مدنظر نہیں رکھا اور ان کو پی ٹی آئی کا رکن قرار دیا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہےکہ اکبر ایس بابر کے پی ٹی آئی چھوڑنے کی ای میل کے ریکارڈ پر موجود ہے، ان کا اسکروٹنی کمیٹی میں پیش ہونا قانون کے خلاف ہے لہٰذا ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازع حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں اسلام ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔ عمران خان نے بطور چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی پارٹی کا 2011 سے اکبر ایس بابر سے کوئی تعلق نہیں وہ پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے کیس میں متاثرہ فریق نہیں، اس لیے الیکشن کمیشن کو کیس سننے کا اختیار نہیں۔

 

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی مدنظر نہیں رکھا اور ان کو پی ٹی آئی کا رکن قرار دیا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہےکہ اکبر ایس بابر کے پی ٹی آئی چھوڑنے کی ای میل کے ریکارڈ پر موجود ہے، ان کا اسکروٹنی کمیٹی میں پیش ہونا قانون کے خلاف ہے لہٰذا ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازع حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔

غیر ملکی فنڈنگ کیس
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنما اکبر ایس بابر نے سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے درخواست دائر کررکھی ہے۔ ان کی درخواست کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت الیکشن کیمشن میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اعتراضات اور درخواستیں تاخیری حربے ہیں جو کیس سے بھاگنے کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے مجھے کیس سے الگ کرکے اپنے نتائج حاصل کر سکیں گے، کارروائی خفیہ رکھنے کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے، حقائق سامنے آگئے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بدل کر رکھ دے گا، لوگوں کوپتہ چلےگا اس فنڈنگ کے پیچھےکون ہے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...