امریکا طالبان معاہدہ: ’پاکستان نے جو کرنا تھا کرلیا، اب افغانوں کا کام ہے‘

اس وقت افغان قیادت پر آزمائش ہے،  دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔

قیدیوں کا تبادلہ امن معاہدے میں موجود ہے، رہائی یکطرفہ نہیں ہوگی، دونوں طرف سے قیدی رہا ہوں گے، افغان قیادت کو لچک دکھانی پڑے گی کیونکہ ہٹ دھرمی سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ امن معاہدے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا کردیا اور  اب اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاہدے کے بعد سب کا خیال تھا راستہ آسان نہیں دشواریاں آئیں گی لیکن امن کے راستے میں آنے والی دشواریوں کا حل نکالنا ہوگا، اس وقت افغان قیادت پر آزمائش ہے،  دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا کردیا، اب اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے، اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں۔

 

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ قیدیوں کا تبادلہ امن معاہدے میں موجود ہے، رہائی یکطرفہ نہیں ہوگی، دونوں طرف سے قیدی رہا ہوں گے، افغان قیادت کو لچک دکھانی پڑے گی کیونکہ ہٹ دھرمی سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ صرف معاہدہ کافی نہیں ہے، رویے بھی درست کرنے پڑتے ہیں، ماحول خراب کرنے والے ہمیشہ تھے اور رہیں گے، سیاسی قیادت کا کام ہے کہ ماحول خراب کرنے والوں کو ناکام بنائیں۔ خیال رہے کہ 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...