کورونا کی مد میں سوات کو فراہم کردہ امداد کی تحقیقات کرائی جائے،عبدالرحیم

سوات (زما سوات ڈاٹ کام)سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے کورونا کی مد میں سوات کو فراہم کردہ امداد کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں چند تابوتوں کے علاوہ کسی قسم کی امداد نظرنہیں آئی ہے، حکومت نے جو امداد یا پیکج فراہم کیاہے، اس کی تحقیقات کی جائے، نئی تعینات ہونیوالے کمشنر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہا س حوالے سے تحقیقات کرکے حقائق کو سامنے لائیں گے، ظہیرالاسلام ایک تجربہ سرکاری آفیسرہے اان کا یہاں اچھا وقت گزرا ہے، ہم ان کی دوبارہ بحیثیت کمشنر ملاکنڈڈویژن تعیناتی کا خیرمقدم اوریہاں سے تبدیل ہونیوالے کمشنر کے تبادلے پر خوشی کااظہار کرتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ سوات میں کرونا کے امداد کے نام پر جو پیکیج فراہم کیاگیا ہے ہمیں چند تابوتوں کے علاوہ باقی امدادی پیکج کا کوئی اَتہ پتہ نہیں ہے اور جو طبی آلات وغیرہ لائی گئی ہے ان تمام کی تحقیقات کی جائے۔ کیونکہ سوات میں ہسپتالوں میں آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کی موت واقع ہوتی ہے اگر کرونا کے روک تھام کیلئے کوئی امداد دی گئی۔ ہے۔تو وہ نظرہونا نہیں آیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن سے تبدیل ہونیوالے کمشنر کے تبادلے پر ہرایک خوش ہے، اور ہم ظہیرالاسلام کی ملاکنڈڈویژن میں بحیثیت کمشنر تعیناتی کاخیرمقدم کرتے ہیں ان کایہاں اچھا وقت گزرا ہے ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کرونا کے حوالے سے جومدد آئی ہے اس کی تحقیقات کرینگے اور اگرکوئی گڑبڑ ہواہے تو اس میں ملوث کردار کو بے نقاب کرکے ان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن کے تاجروں کاایک اہم مطالبہ جو کہ ہم نے پیش کیاتھا کہ ہفتہ وار دوچھٹیوں کی اجازت دی جائے تاکہ تاجر برادری ملک کے دیگرحصوں کی طرح ہفتہ میں دوچھٹیاں کرسکے۔ اور باقی دن کام کریں گے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ نئی تعینات ہونے والا کمشنر ظہیرالاسلام اس حوالے سے بھی اپناکرداراداکریں گے اورتاجروں کا یہ دیرینہ مطالبہ حل کریں گے۔

( خبر جاری ہے )

Comments
Loading...