غیر مقامی خواجہ سراؤں کو ضلع بدر کرنے کا فیصلہ

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، 10 آگست 2018ء) ضلعی پولیس سربراہ سید اشفاق انور کے ہدایت پر ایس پی سوات خانخیل خان کے نگرانی میں ایس ایچ او بنڑ ذاہد خان ،ایس ایچ او مینگورہ اختر ایوب خان کی مو جودگی میں خواجہ سراؤں اور علاقہ مشران کے درمیان مذاکرات کامیاب۔دیگر اضلاع سے آئے ہوئے خواجہ سراؤں کو ضلع بدر کرنے کی احکامات کو عملی جامعہ پہنایا جائیگا۔جرائم پیشہ افراد اور غیر اخلاقی سرگمیوں میں ملوث خواجہ سراؤں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ۔گزشتہ روز خواجہ سراؤں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقہ مشران نے پولیس شکایت کردی بعد ازاں علاقہ مشران اور خواجہ سراؤں کے درمیان سوات پولیس کی موجودگی میں کا میاب مذاکرات ہوئے مذاکرات میں خواجہ سراؤں کی طرف سے عرفان،الیاس اور ریشم نے مقامی مشران اور معززین کے ساتھ ہونیوالے اقرارنامہ پر دستخط کئے،جسمیں مندرجہ ذیل شرائط شامل تھے ۔سوات میں آباد دیگر اضلاع سے آئے ہوئے خواجہ سراؤں کو ایک ہفتہ کے اندر اندر اپنے اپنے اضلاع کو واپس کر دیا جا ئیگا ،تمام خواجہ سرا دن یا رات کے وقت لیڈیز لباس میں نہیں پھرینگے،خواجہ سراؤں کی رہائش گاہوں میں خواجہ سراؤں کے علاوہ دیگر لوگ نہیں آئینگے اور نہ ہی رہائش اختیار کرینگے ۔رات11بجے کے بعد خواجہ سراؤں کی رہائش گاہوں کے دروازے بند ہونگے ،رات 11بجے کے بعد خواجہ سراؤں کی رہائش گاہوں کے قریب موجود اجنبی افراد کو پولیس کے حوالہ کیاجائیگا۔جس پر دونوں فریقین متفق ہوئے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا ئینگے کے ان کے وجہ سے کوئی قانون شکنی نہ ہو ۔

Facebook Comments