کورونا وائرس سے نجات تک چین سے کوئی پاکستانی واپس نہیں آئے گا، حکومت کا اعلان

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تشویش پھیلی ہوئی ہے

ووہان شہر میں 120 ممالک کے لوگ رہ رہے ہیں، 7 سے 8 ممالک نے اپنے شہری چین سے نکالے ہیں یا نکالنے کی درخواست کی ہے،سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی ممالک اپنے شہری نکال رہے ہیں تو ہم کیوں نہیں نکال رہے، ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کی صحت کے حوالے سے یہ ٹھیک نہیں ہے، حکومت اس معاملے میں چین کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو چینی حکومت کے اقدامات پر مکمل اعتماد ہے، ہم پوری طرح سے چین کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی چینی ہم منصب سے بڑی طویل بات چیت ہوئی ہے، چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ تمام پاکستانی یہاں محفوظ ہیں، پاکستانیوں کے لئے وہ سب کر رہے ہیں جو کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے مکمل نجات تک چین سے کوئی پاکستانی واپس نہیں آئے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تشویش پھیلی ہوئی ہے، کرونا وائرس کی 4 اقسام ہیں، یہ پانچواں اور نیا ہے، دنیا میں اب تک 249 لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں،اس وقت یہ بیماری 99 فیصد صرف چین میں ہے، اب دنیا کے 27 ملکوں میں یہ وائرس پھیل چکا ہے، ابھی تک پاکستان میں کورونا وائرس کا ایک بھی مریض کنفرم نہیں ہوا۔

 

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ووہان شہر میں 120 ممالک کے لوگ رہ رہے ہیں، 7 سے 8 ممالک نے اپنے شہری چین سے نکالے ہیں یا نکالنے کی درخواست کی ہے،سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی ممالک اپنے شہری نکال رہے ہیں تو ہم کیوں نہیں نکال رہے، ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کی صحت کے حوالے سے یہ ٹھیک نہیں ہے، حکومت اس معاملے میں چین کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو چینی حکومت کے اقدامات پر مکمل اعتماد ہے، ہم پوری طرح سے چین کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی چینی ہم منصب سے بڑی طویل بات چیت ہوئی ہے، چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ تمام پاکستانی یہاں محفوظ ہیں، پاکستانیوں کے لئے وہ سب کر رہے ہیں جو کیا جانا چاہیے۔

 

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس فیصلے پر قائم ہے کہ ہمارے طلبہ کی دیکھ بھال بہترین ہو رہی ہے، اگر کوئی معاملہ نوٹس میں آتا بھی ہے تو اس کا ازالہ کیا جاتا ہے، کچھ ممالک نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے باشندوں کو نکالنا چاہتے ہیں، چین نے یہ واضح کیا ہے کہ مفاد عامہ کے کیے یہ ٹھیک اقدام نہیں، ووہان میں ابھی 120 ممالک کے شہری رہ رہے ہیں اور تمام ممالک اس کی تائید کر رہے ہیں کہ چین بہترین اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین میں ہمارے شہریوں کا خیال رکھا جا رہا ہے، جو 4 پاکستانی طلباء کورونا وائرس کا شکار ہوئے وہ اب صحت مند ہیں،ان چاروں پاکستانی طلباء میں وائرس کی تشخیص ابتدا میں ہی ہو گئی تھی۔

 

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات اٹھانا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ محفوظ رہ سکیں۔ چینی حکومت دفتر خارجہ سے رابطے میں ہے، چین میں مقیم پاکستانی اس وقت تک یہاں نہیں آ سکیں گے جب تک وہ ڈیزیز فری نہ ہوں،جس طرح کوئی بھی چینی باہر کے ملک میں سفر کرنے کا اہل نہیں ہو گا جب تک وہ 14 دن تک آبزرویشن میں نہیں رہے گا، ایسے ہی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بھی ہو گا،اس قدم سے پاکستان کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...