سوات میں سات نئے ڈگری کالجز کی تعمیر، کمشنر کی زیر صدارت پیش رفت کا جائزہ

اجلاس میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے تحت ضلع سوات میں منظور شدہ ڈگری کالجز کی تعمیر میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا

سوات(زما سوات ڈاٹ کام) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کی زیرِ صدارت اجلاس کمشنر آفس سیدو شریف میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے تحت ضلع سوات میں منظور شدہ ڈگری کالجز کی تعمیر میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن سے چیف پلاننگ آفیسر  محمد اسلام آفریدی، پرنسپل جہانزیب کالج وفا محمد، سیکرٹری ٹو کمشنر محمود احمد، ٹی ایم او میاں قیصر خان، ایس ڈی او شبیر احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوارمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نائیلہ انجم، ایس ایم محکمہ زراعت شاہ عالم اور دیگر آفیسرز شریک ہوئے۔ چیف پلاننگ آفیسر کی جانب سے اجلاس کو کالجز کی تعمیر میں پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع سوات کے مختلف تحصیلوں میں سات نئے کالجز تعمیر کئے جارہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض کالجز میں ترقیاتی کام شروع ہوچکے ہیں جبکہ دیگر کے لئے اراضی حاصل کی جارہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کالجز کے لئے فیزیبلٹی سٹڈی مکمل ہونے کے بعد تمام متعلقہ فورم سے اجازت نامے لئے گئے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض کالجز کے لئے اراضی کے حصول کے دوران زمین مالکان نے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کام میں پیشرفت نہیں ہورہی۔ ضلعی انتظامیہ سوات کی جانب سے اجلاس کو کالجز کے لئے اراضی کے حصول میں حائل رکاوٹوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجالاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا کہنا تھا کہ ضلع سوات کی آبادی میں مسلسل اضافے سے موجودہ کالجوں پر بوجھ پڑا ہے جسکی وجہ سے بشتر طلباء وطالبات ایڈمیشن سے رہ گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض کالجز میں ایوننگ شفٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس موقع پر پرنسپل جہانزیب کالج کا کہنا تھا کہ امسال کالج میں ایڈمیشن کے لئے 9265 درخواستیں جمع ہوئیں جس میں صرف 2500 طلباء کو انٹر کے لئے مور ننگ اور ایوننگ میں داخلہ ملا۔

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا طلباء وطالبات اور والدین کو درپیش مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسے میں کالجز کی تعمیر جلد یقینی بنائی جائے تاکہ طلباء وطالبات کو تعلیمی ماحول دے کر ان کے قیمتی سال ضائع ہونے سے بچائے جاسکیں۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں ساری صورتحال معزز عدالت کے سامنے رکھے تاکہ دیگر کالجوں کے لئے اراضی کا حصول جلد ممکن ہوسکے

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...