مینگورہ خوڑ کی بار بار صفائی، سرکاری خزانے کو نقصان

اس سے قبل بھی ایم پی اے فضل حکیم نے کروڑوں کی لاگت سے مینگورہ خوڑ کی صفائی کرائی تھی

ینگورہ خوڑ کی صفائی کے لئے محکمہ واسا اور انتظامیہ ایک بار پھر کمربستہ ہو گئی ہے۔ چھ ماہ کے عرصے پر محیط کلین دی سٹریم منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ منصوبے کو عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے فائدہ کچھ نہیں ہونے والا البتہ سرکاری خزانے کا کروڑوں کا چھونا لگایا جائے گا ۔ مذکورہ منصوبے پر عوامی حلقوں کے تاثرات لئے گئے لوگوں کا کہنا تھا کہ مینگورہ خوڑ کی بار بار صفائی کی جاتی ہے اور ہفتہ دو ہفتہ بعد یہ دوبارہ گندگی کا ڈھیر بن جاتی ہے

سوات(زما سوات ڈاٹ کام) مینگورہ خوڑ کی صفائی کے لئے محکمہ واسا اور انتظامیہ ایک بار پھر کمربستہ ہو گئی ہے۔ چھ ماہ کے عرصے پر محیط کلین دی سٹریم منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ منصوبے کو عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے فائدہ کچھ نہیں ہونے والا البتہ سرکاری خزانے کا کروڑوں کا چھونا لگایا جائے گا ۔ مذکورہ منصوبے پر عوامی حلقوں کے تاثرات لئے گئے لوگوں کا کہنا تھا کہ مینگورہ خوڑ کی بار بار صفائی کی جاتی ہے اور ہفتہ دو ہفتہ بعد یہ دوبارہ گندگی کا ڈھیر بن جاتی ہے۔

خوڑ کو گندہ کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ محکمہ ٹی ایم اے اور واسا کا ہی ہوتا ہے جو شہر بھر کی گندگی کو خوڑ میں پھینکتے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ایم پی اے فضل حکیم نے کروڑوں روپے کی لاگت سے مینگورہ خوڑ کی صفائی کی تھی جس کے ایک ہفتہ بعد دوبارہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حقیقی عوامی مسائل کو حل کرنے کی بجائے حکومتی نمائندگان اور دیگر سرکاری افسران بھاری رقم کا ضیاع کر رہے ہیں ۔

کبھی خوڑ صاف کیا جاتا ہے تو کبھی قبرستانوں کے گرد جھنگلے نصب کردئے جاتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر سب سے پہلے مینگورہ شہر میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو بہتر ہوگا۔ لوگوں نے مزید کہا کہ بغیر منصوبہ بندی کے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں جو بعد میں سرد خانوں کی نذر ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...