خیبرپختونخوا حکومت نےعوام کے 80 سے 90 ارب روپے وفاق کو دیئے، پشاور ہائی کورٹ

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے کیس کی سماعت کے دوران ریمراکس دیئے ہیں کہ صوبائی حکومت کے پاس فنڈز بہت ہے لیکن وفاق کو سرنڈر کرلیتے ہیں، صوبے نے 80 سے 90 بلین روپے وفاق کو دیئے۔

پشاور ہائی کورٹ میں نہری پانی میں گندگی کے خلاف دائر کیس کی سماعت ہوئی، سیکرٹری ایریگیشن، ڈی جی پی ڈی اے اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیکرٹری ایریگیشن نے عدالت کو بتایا کہ لوگل گورنمنٹ کے اس معاملے پر بات کی ہے، حکومت جلد فنڈ فراہم کرے گی اور کام کا آغاز کردیا جائے گا

پشاور(ویب ڈیسک ) پشاور ہائی کورٹ میں نہری پانی میں گندگی کے خلاف دائر کیس کی سماعت ہوئی، سیکرٹری ایریگیشن، ڈی جی پی ڈی اے اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیکرٹری ایریگیشن نے عدالت کو بتایا کہ لوگل گورنمنٹ کے اس معاملے پر بات کی ہے، حکومت جلد فنڈ فراہم کرے گی اور کام کا آغاز کردیا جائے گا۔

اس موقع پر جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت کے پاس فنڈ بہت ہے لیکن وفاق کو سرنڈر کرلیتے ہیں، صوبے نے 80 سے 90 بلین روپے وفاق کو دیئے، صوبے میں ترقیاتی کام نہیں ہورہے اور پیسے وفاق کو سرنڈر کررہے ہیں، یہ صوبے کے عوام کا پیسہ ہے۔

جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ حکومت جو کچھ کررہی ہے یہ افسوسناک ہے، اس حکومت نے تھوڑے عرصے میں پانچ چیف سیکرٹری تبدیل کئے، آفیسرز بھی آزادی سے کام نہیں کررہے، ہروقت حکومتی تلوار ان کے سرو پر لٹک رہی ہوتی ہے جب کہ ایڈوکیٹ جنرل کو عدالت میں ہونا چاہیئے تھا آئندہ سماعت پر ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں خود پیش ہوں۔
بعد ازاں کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...